انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 436 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 436

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳۶ اسلام اور ملکیت زمین صحابی کو اختلاف نہیں خصوصاً مہاجر ، اہلِ مدینہ تمام کے تمام اس بات پر متفق ہیں۔اسی طرح ایک روایت میں خالد حذاء یمنی کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ حضرت مجاہد کے پاس بیٹھا تھا ( یہ ایک بہت بڑے فقیہہ اور مفسر قرآن تابعی تھے ) کہ حضرت مجاہد نے رافع بن خدیج کی کی روایت بیان کی جو زمین کو مقاطعہ پر دینے کے خلاف ہے۔اس مجلس میں طاؤس بھی بیٹھے ہوئے تھے ( یہ بھی بہت بڑے تابعی اور مفسر گزرے ہیں۔انہوں نے جب یہ روایت سنی تو اپنے سینہ پر زور سے ہاتھ مارا اور کہا کہ قدم علينا معاذ اليمن وكان يعطى الارض على الثلث والربع فنحن نعمل به الى اليوم ۲۷ یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کی ہمارے پاس آپ کی طرف سے گورنر مقرر ہو کر حضرت معاذ صحابی یمن میں تشریف لائے اور آپ زمین تیسرے یا چوتھے حصہ پر بٹائی پر لوگوں کو دیا کرتے تھے ہم بھی اسی طرح بٹائی پر لوگوں کو زمین دیتے رہے اور آج تک دیتے ہیں اس لئے ہم اس دوسری حدیث کی صحت کو تسلیم نہیں کرتے۔حضرت طاؤس کو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے اس فیصلہ پر اتنا اصرار تھا کہ نسائی میں عمرو بن دینار سے روایت لکھی ہے کہ طاؤس کہتے تھے اصل طریقہ زمین کو کاشت کے لئے دینے کا بٹائی ہی ہے کسی رقم کے بدلہ پر زمین دینا نا پسند دیدہ ہے ( اس بارہ میں تفصیل آگے آئے گی۔) بخاری کتاب المزارعہ میں حضرت ابو ہریرہ سے ایک راویت آتی ہے کہ انصار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور غرض کیا کہ ہمارے باغات ہم میں اور مہاجرین میں آدھے آدھے بانٹ دیئے جائیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔پھر فرمایا یہ صورت ہوسکتی ہے وہ لوگ محنت کریں اور پھل میں تمہارے ساتھ شریک ہو جائیں۔انصار نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم نے آپ کا ارشا دسنا اور ہم ایسا ہی کریں گے۔ائمہ اہل بیت کا بھی یہی تعامل رہا ہے اور اسی کے مطابق ان کا فتویٰ تھا۔چنانچہ حضرت امام ابو عبد اللہ سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا گندم کی معین مقدار پر زمین کا ٹھیکہ مت لیا کرو بلکہ نصف پیداوار یا تہائی پیداوار یا چوتھائی پیداوار یا پانچویں حصہ کی پیداوار پر ٹھیکہ لیا کرو۔اس میں کوئی حرج نہیں ( فروع الکافی جلد ۲ صفحہ ۱۰۲ یہ کتاب شیعوں کی کتب میں حدیث بخاری کا