انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 438

انوار العلوم جلد ۲۱ ۴۳۸ اسلام اور ملکیت زمین تمام پچھلے زمانوں کے مسلمان زمین کو بٹائی پر دینے کے طریقہ پر عمل کرتے رہے ہیں۔امام ابو یوسف جو امام ابو حنیفہ کے شاگردوں میں سے سب سے بڑے پایہ کے سمجھے جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ هذا احسن ما سمعنا في ذالك والله اعلم وهو الماخوذ به عندنا ۵۱، یعنی بٹائی پر زمین دینے کا جو طریق ہے اس کے جائز ہونے کے متعلق جو روایتیں ہیں وہ نہایت ہی ثابت شدہ روایتیں ہیں۔باقی حقیقی علم خدا تعالیٰ کو ہے مگر ہم لوگ تو اسی فتوی پر عمل کرتے ہیں۔اسی طرح امام نووی سے ان کی شرح مسلم کی جلد ۲ صفحہ ۱۲ پر یہ روایت درج ہے کہ مالکیوں میں سے ایک بڑی جماعت کا یہ فتویٰ ہے کہ زمین کو بٹائی پر دینا تیسرے حصہ پر یا چوتھے حصہ پر یا اور کسی طریق پر جس کا باہم فیصلہ ہو جائے جائز ہے۔سابق بڑے ائمہ میں سے صرف امام ابو حنیفہ ہیں جو اس کو نا جائز سمجھتے ہیں۔اُن کا یہ عقیدہ کی تھا کہ صرف نقدی پر زمین دی جاسکتی ہے، بٹائی پر زمین نہیں دی جا سکتی۔امام ابو حنیفہ کا یہ فتویٰ کی امام نووی کی شرح مسلم جلد ۲ صفحہ ۱۴ پر درج ہے۔اور علامہ طحاوی کی کتاب شرح معانی الآثار جلد ۴ صفحہ ۱۳۰ پر بھی یہ فتویٰ درج ہے۔اس کتاب میں یہ فتویٰ اِن الفاظ میں درج ہے۔لا یجوز المساقاة ولا المزارعة الا بالدراهم والدنانير وما اشبهما من العروض - یعنی باغوں کا ٹھیکہ پر دینا یا زمین کا ٹھیکہ پر دینا صرف روپے سونے کے لگان کے بالمقابل جائز ہے ، غلہ کی بٹائی پر جائز نہیں۔علامہ ابن قیم جو اہلِ حدیث اور صوفیاء دونوں میں بڑی عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اعلام الموقعین جلد ۲ صفحہ ۱۲۶ پر فرماتے ہیں۔المزارعة الطريقة المشروعة التي فعلها رسول الله له حتى كانها راى عين واتفق عليه الصحابة وصح فعلها عن الخلفاء الراشيدين لايشك فيها كما حكاه البخاری ۵۲ یعنی زمین کا بٹائی پر دینا ایک شرعی طریقہ ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے اور اس حد تک ثابت ہے کہ گویا ہم نے اپنی آنکھوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ عمل کرتے دیکھ لیا ہے۔اور صحابہ نے بھی اس پر اتفاق کیا ہے اور خلفائے راشدین کا عمل بھی اس پر ثابت ہے جس میں کوئی شک کی کی