انوارالعلوم (جلد 21) — Page 158
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۸ آئندہ وہی تو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی وارث ہوا ہے۔اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ ! جب کسی کے بیٹے کی اچھی حالت ہوتی ہے تو وہ خوش ہوا کرتا ہے یا رویا کرتا ہے؟ میرا بیٹا اسلام کی خدمت میں مارا گیا ہے اور آپ فرماتے ہیں کی کہ اگلے جہان میں بہت بڑا انعام ملا ہے اور بہت بڑا رتبہ حاصل ہوا ہے اس انعام اور رتبہ کے حاصل ہونے پر میں روؤں یا خوش ہوں؟ میری ہمسائیاں مجھے کہتی ہیں کہ تو روتی کیوں کی نہیں؟ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! میں کیوں روؤں جب میرا بیٹا پہلے سے بھی زیادہ اچھی حالت میں ہے۔آپ نے فرمایا۔تم ٹھیک کہتی ہو۔جو کچھ تمہارے بیٹے کو اگلے جہان میں ملا ہے اُس کے مقابلہ میں یہ دنیا اور اس کی زندگی کوئی چیز ہی نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ مائیں ہی بچے بناتی ہیں اور مائیں ہی بچے بگاڑا کرتی ہیں۔اس زمانہ می میں بھی خدا تعالیٰ نے اسلام کو عزت دینے کے لئے ایک اسلامی علاقہ قائم کر دیا ہے اور مسلمان کہلانے والے اس کے حکمران اور بادشاہ ہیں۔یا تو ہمارے کا فرحاکم تھے اور یا اب مسلمان حاکم ہیں۔وہ خواہ کتنے بھی بگڑے ہوئے ہوں بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ہیں۔یہ رتبہ اور یہ عزت جو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بخشی ہے یہ ایک علامت ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اور بھی عزت دینے کے لئے تیار ہے۔اگر تم لوگ اپنے فرائض ادا کرو تو یہی مسلمان کہلانے والے احمدی بن جائیں گے اور اس طرح حقیقی اسلام کی حکومت قائم ہو جائے گی۔لیکن ہر نعمت کے لئے کچھ قربانی دینی پڑتی ہے اور ہر قربانی اپنے ساتھ کچھ جذبات کو بھی اُبھارا کرتی ہے اور کچھ جذبات کو صدمے بھی پہنچایا کرتی ہے۔جس کے پاس کچھ کچ نہیں ہوتا اسے بچانے کا کوئی فکر بھی نہیں ہوتا مگر جس کے پاس کچھ ہوتا ہے اُسے اپنی چیز ڈا کو ؤں کی اور چوروں سے بچانے کے لئے اُس کی حفاظت کا بھی فکر ہوتا ہے۔غرض دولت کی فراوانی یانی حکومت اور بادشاہت اپنے ساتھ ذمہ داریاں بھی لاتی ہے۔جب ملک ہمارے پاس آچکا ہے تو اس کو بچانا ہمارا کام ہے۔اب انگریزوں کے خون سے اس ملک کو بچا یا نہیں جاسکتا بلکہ خود مسلمانوں کے خون سے اس ملک کو بچایا جائے گا۔اس سلسلہ میں پاکستان کو کچلنے اور اسے اس کے ایک جائز حق سے محروم کرنے کے لئے بعض خطرات پیدا کر دیئے گئے ہیں۔اس موقع پر میں نے بار بار جماعت احمدیہ کے افراد کو توجہ دلائی کہ وہ اُٹھیں اور ملک کی خدمت کریں۔