انوارالعلوم (جلد 21) — Page 157
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۷ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی کے لفظوں سے خدا تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتیں۔تمہیں قربانیاں کرنی پڑیں گی وہ قربانیاں جن کے مقابلہ میں تمہاری پہلی قربانیاں بالکل بیچ ہو کر رہ جائیں۔جب تک تم وہ قربانیاں کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگی تم کوئی بڑی عزت حاصل نہیں کر سکتیں اور تمہاری اولادیں ہمیشہ دوسروں کی غلام بن کر رہیں گی اور غلام اور مقہور اور ذلیل اولا د کا جننا کسی خوشی کا موجب نہیں بلکہ ذلت اور رُسوائی کا موجب ہوتا ہے۔وہ عورت جو دس بچے جنتی ہے اور اُس کے دسوں بچے غلامی اور ذلت کی زندگی بسر کرتے ہیں ، وہ اپنے خاندان کو بڑا نہیں کرتی بلکہ اُسے ذلیل کرتی ہے کیونکہ اُس نے اپنے خاندان میں دس غلاموں کی زیادتی کی ہے۔وہی عورت عزت کی مستحق ہے جو بچہ نہیں جنتی شیر جنتی ہے، جو انسان نہیں جنتی فرشتے جنتی ہے یہی وہ کام ہے جو صحابیات نے کیا۔صحابیات کی قربانیوں کی بیسیوں مثالیں میں نے تمہیں سنائی ہیں۔ان کے جذبات کی بلندی اور پاکیزگی اور اُن کے احساسات کی صفائی ایسی ہے کہ اگر تم اس کو اپنے سامنے رکھو تو وہ حقیقی نمونہ اور حقیقی راہنما ہے جو تمہارے فرائض ادا کرنے میں تمہاری مدد کر سکتا ہے۔اُن کی زندگی کے بہت سے واقعات ہیں مگر میں اس وقت تمہیں صرف ایک واقعہ سناتا ہوں۔ایک صحابیہ کا بچہ جو اُس کا اکلوتا بیٹا تھا لڑائی میں مارا گیا مگر اُس نے اپنے بچے کی موت پر آنسو نہ بہائے ، اُس نے اپنے بچے کی موت پر غم نہ کیا بلکہ وہ خوش رہی اور کسی قسم کے صدمے کا اُس نے اظہار نہ کیا۔ہر قوم میں کچھ بیوقوف عورتیں بھی ہوتی ہیں، اُس کی بیوقوف ہمسائیاں اُس کے پاس آتیں اور کہتیں اے سنگدل ماں ! تیرا اکلوتا بچہ مارا گیا مگر تو نے اپنے بچے کی موت ا پر کوئی آنسو نہیں بہایا ، کیا تیری سنگدلی کی بھی کوئی انتہا ہے؟ وہ ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئی اور اُس نے کہا۔يَا رَسُولَ اللهِ! میرا بیٹا دوزخ میں گیا ہے یا جنت میں ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔تمہارا بیٹا یقیناً جنت میں گیا ہے وہ خدا تعالیٰ کی راہ می میں لڑتا ہوا مارا گیا ہے اور ایمان پر اُس کا خاتمہ ہوا ہے۔اُس نے کہا يَارَسُوْلَ اللهِ ! اُس کی وہ حج حالت اچھی ہے جو اگلے جہان کی ہے یا اس دنیا میں جو اُس کی حالت تھی وہ زیادہ اچھی تھی ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اس دنیا کی اگلے جہان کے مقابلہ میں نسبت ہی کیا ہے؟ اُسےاگلے جہان میں زندگی ملی ہے، خدا تعالیٰ کا قرب ملا ہے اور اس کے انعامات اور فضلوں کا