انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 568 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 568

انوار العلوم جلد ۲۱ ۵۶۸ تعلیم الاسلام ہائی سکول ! تعلیم الاسلام ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ کے قیام و استحکام۔بولیے غالبا وہ سمجھتے تھے کہ میں اس بات پر اور زور دوں گا کہ وظیفے دیئے جائیں اور جماعت کے نو جوانوں کو ڈاکٹر اور وکیل بنایا جائے۔خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم اُس وقت تقریر کر رہے تھے ، وہ گھبرائے اور کہا کہ میں ذرا اپنی تقریر ختم کرلوں، پھر کہا آپ آگے آجائیں۔میں نے کہا میں یہیں ٹھیک ہوں۔میں نے کہا کہ ہم حدیثوں میں پڑھا کرتے تھے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات سے پہلے مسلمانوں کی ساری جان نکال کر ایک لشکر تیار کیا سارے نوجوان جولڑنے والے بالغ اور سمجھدار تھے ان سب کی ایک فوج بنائی۔حضرت ابوبکر اور حضرت عمرؓ بھی اس لشکر میں شامل تھے کیونکہ روما نے حملہ کر کے بعض مسلمانوں کو مار دیا تھا۔اس فوج پر آپ نے کی حضرت اسامہ کو افسر مقرر کیا اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو آپ نے کی فرمایا میں اچھا ہوں گا تو اس لشکر کو خود باہر چھوڑنے کے لئے جاؤں گا مگر مشیت الہی کے ماتحت کی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیماری سے شفایاب نہ ہوئے اور اسی میں وفات پاگئے۔آپ کی وفات کی خبر سنتے ہی سارا عرب باغی ہو گیا اور صرف مکہ اور مدینہ میں اسلامی حکومت باقی رہ گئی۔حضرت ابو بکر پہلے خلیفہ مقرر ہوئے آپ نے حکم دیا کہ یہ لشکر روما کی طرف روانہ ہو اور حضرت اسامہ سے صرف اتنا کہا کہ اگر اجازت دو تو عمر کو میں اپنے پاس رکھ لوں تا وہ میرے مشیر کار ہوں۔انہوں نے اجازت دے دی اور حضرت عمرؓ مدینہ میں رہ گئے۔روما کی حکومت اُس وقت آدھی دنیا پر حکمران تھی اور بظاہر حالات لشکر کا بچ کر آجانا ناممکن نظر آتا تھا۔بعض صحابہ کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ سارا عرب باغی ہو چکا ہے اگر یہ لوگ بھی چلے گئے تو دشمن آگے بڑھتا چلا آئے گا اور اسے روکنے والا مدینہ میں کوئی شخص نہیں ہو گا۔چنانچہ صحابہ کا ایک وفد حضرت ابو بکر کے پاس آیا اور کہا کہ آپ اس لشکر کو روک لیجئے پہلے یہ باغیوں اور کی مرتدوں کے ساتھ لڑئے اور جب وہ انہیں شکست دے دے تو باہر بھیجا جائے۔حضرت ابوبکر نے جواب دیا کہ خدا تعالیٰ کے رسول نے ایک لشکر تیار کیا تھا اور فرمایا تھا کہ میں تندرست ہونے پر سب سے پہلا موقع ملنے پر اس لشکر کو روانہ کروں گا۔پھر وہ فوت ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے اس کی خلافت مجھے عطا فرمائی۔اب کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں اُس کا خلیفہ اور قائم مقام ہو کر سب سے پہلا کام یہ کروں کہ اُس نے جو حکم دیا تھا اُسے منسوخ کر دوں ؟ کیا یہ خلافت ہوگی یا تردید؟