انوارالعلوم (جلد 21) — Page 156
انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۶ آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی اُس سے بھی وہ ادنی تھا۔مگر مدینہ میں جس قسم کے آٹے ہوتے تھے اُن سے وہ بہت اعلیٰ تھا۔بہر حال آٹے کے پھلکے تیار ہوئے عورتوں نے اُن کو دیکھا اور وہ حیران رہ گئیں۔وہ وفور شوق میں اپنی انگلیاں اُن پھلکوں کو لگاتیں اور بے ساختہ کہتیں ، اُف کیسا نرم پھلکا ہے۔کیا اس سے اچھا آٹا بھی دنیا میں ہو سکتا ہے؟ حضرت عائشہ نے پھلکے میں سے ایک لقمہ تو ڑا اور منہ میں ڈالا۔وہ ساری کی ساری اس شوق سے حضرت عائشہ کا منہ دیکھنے لگیں کہ اس کے کھانے سے حضرت عائشہ کی عجیب حالت ہوگی ، وہ خوشی کا اظہار کریں گی اور خاص قسم کی لذت اس سے محسوس کی کریں گی۔مگر حضرت عائشہ کے منہ میں وہ لقمہ گیا تو جس طرح کسی نے گلا بند کر دیا ہو ، وہ لقمہ اُن کی کے منہ میں ہی پڑا رہ گیا اور اُن کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔عورتوں نے کہا۔بابی ! آٹا تو بڑا ہی اچھا ہے ، روٹی اتنی نرم ہے کہ اس کی کوئی حد ہی نہیں آپ کو کیا ہو گیا کہ اسے نگل ہی نہیں سکیں اور رونے لگ گئیں؟ کیا اس آئے میں کوئی نقص ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا۔آٹے میں نقص نہیں میں مانتی ہوں کہ یہ بڑا ہی نرم پھل کا ہے اور ایسی چیز پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھی مگر میری آنکھوں سے اس لئے آنسو نہیں ہے کہ اس آٹے میں کوئی نقص ہے بلکہ مجھے وہ دن یاد آ گئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں سے گزر رہے تھے آپ ضعیف ہو گئے تھے اور سخت غذا نہیں کھا سکتے تھے مگر اُن دنوں میں بھی ہم پتھروں سے گندم کچل کر کی اور اُس کی روٹیاں پکا پکا کر آپ کو دیتے تھے۔پھر آپ نے فرمایا۔وہ جس کے طفیل ہم کو یہ نعمتیں ملیں وہ تو ان نعمتوں سے محروم چلا گیا لیکن ہم جنہیں اُس کے طفیل سے یہ سب عزتیں مل رہی ہیں ہم وہ نعمتیں استعمال کر رہے ہیں۔یہ کہا اور لقمہ تھوک دیا اور فرمایا۔اُٹھا لے جاؤ یہ پھلکے میرے سامنے سے مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آ کر گلے میں پھندا پڑتا ہے اور میں یہ پھلکا نہیں کھا سکتی۔حقیقت یہ ہے کہ انبیاء کی جماعتیں ہمیشہ تکلیفوں سے عزت پاتی ہیں۔اُن کی عزت اس کی میں نہیں ہوتی کہ اُن کے پاس اتنا روپیہ ہے یا اتنی دولت اور جائداد ہے بلکہ اُن کی ساری تی عزت اسی بات میں ہوتی ہے کہ اُنہوں نے خدا تعالیٰ کی خاطر کیا کیا تکلیفیں برداشت کیں۔پستی اپنے نفس میں دین کی خاطر تکلیفیں برداشت کرنے کی عادت ڈالو۔تم محض چندوں سے یا منہ