انوارالعلوم (جلد 21)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 694

انوارالعلوم (جلد 21) — Page 155

انوار العلوم جلد ۲۱ ۱۵۵ آئندہ وہی قو میں عزت پائیں گی جو مالی و جانی کی زبان بھی کاٹ دی جاتی ، اُس کا ناک بھی کاٹ دیا جاتا، اُس کے دانت بھی نکال دیئے جاتے اور پھر عثمان سے یہ کہا جاتا کہ تو یہ فقرہ چھوڑ دے ہم تجھے سب کچھ واپس دینے کو تیار ہیں تو بھی عثمان اُن کی یہ بات ماننے کے لئے تیار نہ ہوتا۔وہ کہتا کہ میں یہ فقرہ واپس دینے کے لئے تیار نہیں تم یہ نعمتیں بے شک اپنے پاس رکھو۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تازہ مرنے والوں میں سے ہر ایک کا صدمہ ہوتا ہے۔ہمسائیوں کا بھی ہوتا ہے، رشتہ داروں کا بھی ہوتا ہے مگر چھ سال کا عرصہ اتنا لمبا عرصہ ہے کہ اس میں دوستہ اپنے دوستوں کو اور رشتہ دار اپنے رشتہ داروں کو بھول جاتے ہیں مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت تھی کہ عثمان کی وفات کے چھ سال بعد آپ کا اکلوتا بیٹا جو آپ کی آخری عمر کا ثمرہ تھا ، وفات پاتا ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ ابراہیم ! تیری موت سے مجھے یہ دکھ ہوا ہے، بلکہ وہ کہتے ہیں تو یہ کہ ابراہیم نے مجھے عثمان کی موت یاد دلا دی ہے۔یہ وہ چیز ہے جس سے انہوں نے رتبے پائے اور عزتیں حاصل کیں۔ہماری ایک یا دو دن کی تکلیفیں اس کے مقابلہ میں حقیقت ہی کیا رکھتی ہیں۔حضرت عائشہ دیر تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہی تھیں۔حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ایران فتح ہوا، تو وہاں سے آٹا پینے والی ہوائی چکیاں لائی گئیں۔جن میں باریک آٹا پیسا جانے لگا۔جب سب سے پہلی چکی مدینہ میں لگی تو حضرت عمر نے حکم دیا کہ پہلا پسا ہوا بار یک آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بطور تحفہ بھیجا جائے۔چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق وہ بار یک میدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا گیا اور اُن کی خادمہ کی نے اُس آٹے کے باریک باریک پھلکے تیار کئے۔مدینہ کی عورتیں جنہوں نے پہلے کبھی ایسا آٹا تی نہیں دیکھا تھا ، وہ ہجوم کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہو گئیں کہ آؤ ہم دیکھیں وہ آٹا کیسا ہے اور اس کی روٹی کیسے تیار ہوتی ہے؟ سارا صحن عورتوں سے بھرا ہوا تھا اور سب اِس انتظار میں تھیں کہ اُس آٹے کی روٹی تیار ہو تو وہ اُسے دیکھیں تم خیال کرتی ہوگی کہ شاید وہ کوئی کی عجیب قسم کا آٹا ہو گا۔وہ عجیب قسم کا آٹا نہیں تھا بلکہ اُس سے بھی ادنی آٹا تھا جو تم روزانہ کھاتی ہو بلکہ اُس سے بھی ادنی آٹا تھا۔آج جو آٹا تم میں سے ایک غریب سے غریب عورت کھاتی ہے