انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 587 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 587

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۷ احمدیت کا پیغام نمائندہ ہے وہ خدا تعالیٰ کی صفات کو دنیا پر ظاہر کرنے کیلئے پیدا کی گئی ہے۔پس تمام بنی نوع انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنی زندگیوں کو خدا تعالیٰ کی صفات کے مطابق بنائیں اور جس طرح ایک نمائندہ اپنے تمام کاموں میں اپنے موکل کی طرف بار بار متوجہ ہوتا ہے اور ایک غلام ہر نیا قدم اُٹھانے سے پہلے اپنے آقا کی طرف دیکھتا ہے اسی طرح انسان کا بھی فرض ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ایسا تعلق پیدا کرے کہ خدا تعالیٰ اس کی ہر دم اور ہر کام میں راہنمائی کرے اور تمام چیزوں سے زیادہ وہ اس کا محبوب ہو اور تمام باتوں میں وہ اس پر تو کل کرنے والا ہو اور اسی فرض کو پورا کروانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دنیا میں آئے۔ان کا یہ کام تھا کہ وہ دنیا دار لوگوں کو دیندار بنائیں۔اسلام کی حکومت دلوں پر قائم کریں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پھر اپنے روحانی تخت پر بٹھا ئیں جس تخت پر سے اتارنے کے لئے شیطانی طاقتیں اندونی اور بیرونی حملے کر رہی ہیں۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کو قشر کی بجائے مغز کی طرف توجہ دلائی اور اس بات پر زور دیا کہ احکام کا ظاہر بھی نہایت اہم اور ضروری ہے لیکن بغیر باطن کی طرف توجہ کرنے کے انسان کوئی ترقی نہیں کر سکتا۔چنانچہ آپ نے ایک جماعت قائم کی اور عہد بیعت میں یہ شرط مقرر کی کہ میں دین کو د نیا پر مقدم رکھوں گا۔در حقیقت یہی مرض تھی جو مسلمانوں کو گھن کی طرح کھا رہی تھی۔باوجودی اس کے کہ دنیا ان کے ہاتھوں سے چھٹ چکی تھی پھر بھی دنیا ہی کی طرف ان کی توجہ جاتی تھی۔اسلام کی ترقی کے معنی ان کے نزدیک بادشاہتوں کا حصول رہ گیا تھا اور اسلام کی کامیابی کے معنی ان کے نزدیک مسلمان کہلانے والوں کی تعلیم اور ان کی تجارت کی ترقی تھی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دنیا میں اس لئے نہیں آئے تھے کہ لوگ مسلمان کہلانے لگ جائیں بلکہ آپ لوگوں کو حقیقی مسلمان بنانے کے لئے آئے تھے جس کی تعریف قرآن کریم نے یہ فرمائی ہے کہ من اسلم وجهه لله کا وہ اپنے سارے وجود کو خدا تعالیٰ کے لئے وقف کر دے اور اپنی دنیوی حاجات کو دینی حاجات کے تابع کر دے۔بظاہر یہ ایک معمولی سی بات معلوم ہوتی ہے لیکن حقیقتاً اسلام اور دیگر ادیان میں یہی فرق ہے۔اسلام یہ نہیں کہتا کہ تم علم حاصل