انوارالعلوم (جلد 20) — Page 588
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۸ احمدیت کا پیغام کرو۔نہ یہ کہتا ہے کہ تم تجارتیں نہ کرو۔نہ یہ کہتا ہے کہ صنعت و حرفت نہ کرو۔نہ یہ کہتا ہے کہ تم اپنی حکومت کی مضبوطی کی کوشش نہ کرو۔وہ صرف انسان کے نقطہ نگاہ کو بدلتا ہے دنیا میں تمام کاموں کے دو نقطہ نگاہ ہوتے ہیں۔ایک قشر سے مغز حاصل کرنے کا نقطہ نگاہ ہوتا ہے اور ایک مغز سے قشر حاصل کرنے کا نقطۂ نگاہ ہوتا ہے۔جو شخص قشر سے مغز حاصل کرنے کی امید رکھتا ہے ضروری نہیں کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے بلکہ اکثر وہ نا کام رہتا ہے لیکن جو شخص مغز حاصل کرتا ہے اس کو ساتھ ہی قشر بھی مل جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کی تمام جد و جہد دین کے لئے تھی لیکن یہ نہیں کہ وہ دُنیوی نعمتوں سے محروم ہو گئے ہوں۔یہ تو ایک طبعی امر ہے جن لوگوں کو دین ملے گا دنیا لونڈی کی طرح ان کے پیچھے دوڑتی ہے آئے گی لیکن دنیا کے ساتھ دین کا ملنا ضروری نہیں، بسا اوقات وہ نہیں ملتا۔بسا اوقات رہا سہا دین بھی ہاتھوں سے جاتا رہتا ہے۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے انبیاء کے طریق پر چلتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حکم سے دین پر زور دینا شروع کیا۔جس وقت آپ ظاہر ہوئے مسلمانوں میں دو قسم کی تحریکیں جاری تھیں۔ایک تحریک یہ تھی کہ مسلمان کمزور ہو چکے ہیں اس لئے انہیں دنیوی طاقت حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دوسری تحریک آپ نے چلائی کہ ہم کو دین کی طرف توجہ کرنی چاہئے ، اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا اللہ تعالیٰ ہمیں خود دیدے گا۔بعض لوگوں نے غلطی سے یہ سمجھا کہ آپ کی تحریک بھی ویسی ہی ہے جیسے آجکل کے صوفیاء وغیرہ کی تحریک ہوتی ہے کہ وہ ظاہری طور پر نماز روزہ پر زور دیتے ہیں اور اچھے بھلے آدمیوں کو خلوت میں بٹھا کر پردہ نشین عورتوں کی طرح بنا دیتے ہیں۔اگر آپ ایسا کرتے تو یقیناً آپ بھی مغز کے نام سے ایک قشر کے حصول کی تحریک کرتے مگر آپ نے ایسا نہیں کیا۔آپ نے جہاں دینی احکام پر زور دیا وہاں اس بات پر بھی زور دیا کہ دین اللہ کی طرف سے اس لئے آیا کرتا کی ہے کہ وہ انسان کے ذہن کو جلا بخشے اور اُس کے دماغ کو منور کرے اور اُس کی عقل کو تیز کرے۔آپ نے کہا جو شخص بچے طور پر دین پر عمل کرتا ہے اور بناوٹ سے کام نہیں لیتا ، دین اُس کے اند را خلاق فاضلہ پیدا کرتا ہے۔دین اُس کے اندر قوت عملیہ پیدا کرتا ہے اور دین اُس کے