انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 586 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 586

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۶ احمدیت کا پیغام بعثت کے بعد اس کے رحم اور کرم کے دریا میں مزید جوش پیدا ہو گیا ہے نہ کہ اس کا رحم اور کرم مٹ گئے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کبھی بھی رحیم تھا تو اُمت محمدیہ کیلئے اس کو پہلے سے زیادہ رحیم ہونا کی چاہیے، اگر خدا تعالیٰ کبھی بھی کریم تھا تو اُمتِ محمدیہ کے لیے اُس کو پہلے سے زیادہ کریم ہونا چاہئے اور یقیناً وہ ایسا ہی ہے۔قرآن کریم اور احادیث اس پر شاہد ہیں کہ اُمتِ محمدیہ میں جب کبھی خرابی پیدا ہوگی خدا تعالیٰ اپنی طرف سے ہادی اور راہنما بھجوا تا رہے گا۔خصوصاً اس آخری زمانہ میں جبکہ دجال کا فتنہ ظاہر ہو گا۔عیسائیت غالب آجائے گی۔اسلام ظاہری طور پر مغلوب ہو جائے گا اور مسلمان دین کو چھوڑ بیٹھیں گے اور دوسری اقوام کے رسم و رواج کو کی اختیار کرلیں گے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک کامل مظہر ظاہر ہوگا اور اس زمانہ کی اصلاح کرے گا جس کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لَا يَبْقَى مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ وَلَا يَبْقَى مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ ها یعنی اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کی صرف تحریر رہ جائے گی اسلام کا مغز کہیں نظر نہ آئے گا اور قرآن کے معنی کسی پر روشن نہ ہوں گے۔پس اے عزیز و اسلسلہ احمدیہ کا قیام اسی سنت قدیمہ کے ماتحت ہوا ہے اور انہی پیشگوئیوں کی کے مطابق ہوا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ سے پہلے انبیاء نے اس زمانہ کے متعلق بیان فرمائی ہیں۔اگر مرزا صاحب کا انتخاب اس کام کے لئے مناسب نہ تھا تو یہ خدا تعالیٰ پر الزام ہے ، مرزا صاحب کا اس میں کیا قصور ہے۔لیکن اگر خدا تعالیٰ عالم الغیب ہے اور کوئی راز اس سے پوشیدہ نہیں اور اس کے تمام کام حکمتوں سے پُر ہوتے ہیں تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کا انتخاب ہی صحیح انتخاب تھا اور انہی کے ماننے میں مسلمانوں اور دنیا کی بہتری ہے۔آپ کوئی نیا پیغام دنیا کیلئے نہیں لائے مگر وہی پیغام جو محمد رسول اللہ نے دنیا کو سنایا تھا مگر دنیا اُسے بھول گئی ، وہی پیغام جو قرآن کریم نے پیش کیا تھا مگر دنیا نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا اور وہ یہی پیغام ہے کہ تمام کائنات کا پیدا کرنے والا ایک خدا ہے۔اس نے انسان کو اپنی محبت اور تعلق کے لئے پیدا کیا ہے۔اپنی صفات کو اس کے ذریعہ سے ظاہر کرنے کے لیے اسے بنایا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے وَاذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَيحَةِ انّي جَاعِلُ في الأَرْضِ خَلِيفَةٌ 11 پس آدم اور اس کی نسل خدا تعالیٰ کی خلیفہ یعنی اس کی