انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 385 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 385

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۸۵ دیبا چه تفسیر القرآن شرک سے آپ کو اس قدر نفرت تھی کہ وفات کے وقت جبکہ آپ جان کندن کی تکلیف میں کبھی دائیں کروٹ لیٹتے اور کبھی بائیں کروٹ لیٹتے اور یہ فرماتے جاتے تھے خدا ان یہود اور نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے نبیوں کی قبروں کو مسجد بنا لیا ہے۔ ۲۸؎ یعنی وہ نبیوں کی قبروں پر سجدے کرتے ہیں اور اُن سے دعا دعائیں کرتے ہیں ۔ آپ کا مطلب یہ تھا کہ میری قوم اگر میرے بعد ایسا ہی فعل کرے گی تو وہ یہ نہ سمجھے کہ وہ میری دعاؤں کی مستحق ہو گی بلکہ میں اس سے کلی طور پر بیزار ہوں گا ۔ خدا تعالیٰ کے لئے آپ کی غیرت کا ذکر آپ کی زندگی کے تاریخی واقعات میں آچکا ہے ۔ مکہ کے لوگوں نے آپ کے سامنے ہر قسم کی رشوتیں پیش کیں تا آپ بتوں کی تردید کرنا چھوڑ دیں اور آپ کے چچا ابو طالب نے بھی آپ سے اس امر کی سفارش کی اور کہا کہ اگر تم نے یہ بات نہ مانی اور میں نے تمہارا ساتھ بھی نہ چھوڑا تو پھر میری قوم مجھے چھوڑ دے گی تو اس پر آپ نے فرمایا اے چچا! اگر یہ لوگ سورج کو میرے دائیں اور چاند کو میرے بائیں لا کر کھڑا کر دیں تب بھی میں خدائے واحد کی تو حید کو پھیلانے سے نہیں رک سکتا ۔ ۴۲۹ اسی طرح اُحد کے موقع پر جب مسلمان زخمی اور پراگندہ حالت میں ایک پہاڑی کے نیچے کھڑے تھے اور دشمن اپنے سارے ساز و سامان کے ساتھ اس خوشی میں نعرے لگا رہا تھا کہ ہم نے مسلمانوں کی طاقت توڑ دی ہے۔ اور ابوسفیان نے نعرہ لگا یا اُعْلُ هُبَل أَعْلُ هُبَل ۔ یعنی ہبل کی شان بلند ہو، ہبل کی شان بلند ہو ۔ تو آپ نے اپنے ساتھیوں کو جو دشمن کی نظروں سے چھے کھڑے تھے اور اس چھپنے میں ہی اُن کی خیر تھی حکم دیا کہ جواب دو اللهُ أَعْلَى وَاجَلُّ اللهُ أَعْلَى وَاجَلُّ ۴۳٠ اللہ ہی سب سے بلند اور جلال والا ہے۔ اللہ ہی غلبہ اور جلال رکھتا ہے ۔ - اور ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خدا تعالیٰ کے لئے جو غیرت تھی اُس کی ایک اور عظیم الشان مثال بھی آپ کی زندگی میں ملتی ہے ۔ اسلام سے پہلے عام طور پر مختلف مذاہب میں یہ خیال پایا جاتا تھا کہ انبیاء کی خوشی اور غم پر زمین اور آسمان میں تغییر ظاہر ہوتے ہیں اور اجرام فلکی ان کے قبضے میں ہوتے ہیں چنانچہ کسی نبی کے متعلق یہ آتا تھا کہ اُس نے سورج کو کہا ٹھہر جا اور وہ ٹھہر گیا۔ کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس نے چاند کی گردش روک دی اور کسی کے متعلق آتا تھا کہ اُس