انوارالعلوم (جلد 20) — Page 386
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۸۶ دیباچهتفسیر القرآن نے پانی کے بہاؤ کو بند کر دیا۔مگر اسلام نے اس قسم کے خیالات کی غلطی ظاہر کی اور یہ بتایا کہ در حقیقت یہ استعارے ہیں جن سے لوگ بجائے فائدہ اُٹھانے کے اُلٹے غلطیوں اور وہموں میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن باوجود ان تشریحات کے کچھ لوگوں کے دلوں میں اس قسم کے خیالات کا اثر باقی رہ گیا تھا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آخری عمر میں آپ کے اکلوتے صاحبزادے ابراہیم اڑھائی سال کی عمر میں فوت ہوئے تو اتفاقاً اُس دن سورج کو بھی گرہن کی لگ گیا اُس وقت چند ایسے ہی لوگوں نے مدینہ میں یہ مشہور کر دیا کہ دیکھو رسول کریم صلی اللہ می علیہ وسلم کے بیٹے کی وفات پر سورج تاریک ہو گیا ہے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر پہنچی تو آپ خوش نہ ہوئے آپ خاموش بھی نہ رہے بلکہ بڑی سختی سے آپ نے اس کی تردید کی اور فرمایا۔چاند اور سورج تو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کو ظاہر کرنے والی ہستیاں ہیں ان کا کسی بڑے یا چھوٹے انسان کی موت یا زندگی کے ساتھ کیا تعلق ہے۔۴۳۱ جب کوئی شخص عرب کے محاورہ کے مطابق یہ کہہ دیتا کہ فلاں ستارہ کے فلاں بُرج میں ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش نازل ہوئی ہے تو آپ کا چہرہ متغیر ہو جاتا اور آپ فرماتے اے لوگو! خدا تعالیٰ کی نعمتوں کو دوسروں کی طرف کیوں منسوب کرتے ہو۔بارشیں وغیرہ سب خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون کے مطابق ہوتی ہیں کسی دیوی دیوتا کی یاکسی اور روحانی طاقت کی مہربانی اور بخشش کے ساتھ نازل نہیں ہوا کرتیں۔۴۳۲ اللہ تعالیٰ پر توکل اللہ تعالی پر توکل کا یہ حال تھا کہ جب ایک شخص نے اکیلا پا کر آپ پر تلوار اُٹھائی اور آپ سے پوچھا اب کون تم کو مجھ سے بچا سکتا ہے؟ اُس وقت باوجود اس کے کہ آپ بے ہتھیار تھے اور بوجہ لیٹے ہوئے ہونے کے حرکت بھی نہیں کر سکتے تھے۔آپ نے نہایت اطمینان اور سکون سے جواب دیا اللہ یہ لفظ اس یقین اور وثوق سے آپ کے منہ سے نکلا کہ اُس کا فر کا دل بھی آپ کے ایمان کی بلندی اور آپ کے یقین کے کامل کو تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی اور وہ جو آپ کو قتل کرنے کے لئے آیا تھا آپ کے سامنے مجرموں کی طرح کھڑا ہو گیا۔۴۳۳ اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں انکساری کی یہ حد تھی کہ جب آپ سے لوگوں نے کہايَا رَسُولَ الله !