انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 536

بہادروں کا بہادر ان سب عیوب سے پا ک تھا۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمْ۔جرأتانسان کی اعلیٰ درجہ کی خصال میں سے ایک جرأت بھی ہےجرأت کے بغیر انسان بہت سے نیک کا موں سے محروم رہ جاتا ہے۔جرأت کے بغیر انسان دنیا میں ترقی نہیں کرسکتا۔جرأت کے بغیر انسان اپنے ہم عصروں کی نظروں میں ذلیل و سبک رہتا ہے۔غرض کہ جرأت،بہادری،دلیری اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ہیں اور جس انسان میںیہ خصلتیں ہوں وہ دوسروں کی نظر میں ذلیل نہیں ہو سکتا۔جب کہ آنحضرت ﷺ جامع کمالات انسانی تھے اور ہر ایک بات میں جو انسان کی زندگی کو بلند اور اعلیٰ کر نے والی ہو دوسرے کے لیے نمونہ اور اسوہ حسنہ تھے اور جو عمل یا قول یا خوبی یا نیکی سے تعبیر کیا جا سکے اس کے آپ معلّم تھے اور کل پاک جذبات کو ابھارنے کے لیے ان کا وجود خضر ِراہ تھا تو ضروری تھا کہ آپؐ اس صفت میں بھی خاتم الانبیاء و اولیاء بلکہ خاتم الناس ہوں اور کو ئی انسان اس حسن میں آپؐ پر فائق نہ ہو سکے چنانچہ آپؐ کی زندگی پر غور کر نے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ آپؐ نے اپنی عمر میں بہادری اور جرأت کے وہ اعلیٰ درجہ کے نمونے دکھائے ہیں کہ دنیا میں ان کی نظیر نہیں مل سکتی بلکہ تا ریخیں بھی ان کی مثال پیش کر نے سے عاجز ہیں لیکن چونکہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ موجودہ صورت میں میں صرف وہ واقعات جو بخاری میں درج ہیں پیش کروں گا اس لیے اس جگہ صرف ایک دو واقعات پر کفایت کر تا ہوں۔دراصل اگر غور کیاجائے تو آنحضرت ﷺ کی مکہ کی زندگی ہی بہادری کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جا تی ہے۔تیرہ سال تک ایک ایسے مقام پر رہنا کہ جہاں سوائے چند انفاس کے اور سب لوگ دشمن اور خون کے پیاسےہیں اور بغیر خو ف کے لوگوں کو اپنے دین کی باتیں سنانا اور پھر ایسے دین کی جو لوگوں کی نظر میں نہایت حقیر او ر مکروہ تھا۔کوئی ایسا کام نہیں جس کے معلوم ہو نے پر آپؐ کے کمالات کا نقشہ آنکھوں تلے نہ کھنچ جا تا ہو۔اس تیرہ سال کے عرصہ میں کیسے کیسے دشمنوں کا آپؐ کو مقابلہ کر نا پڑا۔انواع و اقسام کے عذابوں سے انہوں نے آپؐ کے قدم صدق کو ڈگمگا نا چاہا لیکن آپؐ نے وہ بہادری کا نمونہ دکھا یا کہ ہزار ہا دشمنوں کے مقابلہ میں تن تنہا سینہ سپر رہے اور اپنے دشمنوں کے سامنے اپنی آنکھ نیچی نہ کی اور جو پیغام خدا کی طرف سے لے کر آئے تھے اسے کھلے الفاظ میں بغیر کسی اخفاء و اسرار کے لوگوں تک پہنچا تے رہے غرض کہ آپؐ کی زندگی تمام کی تمام جرأت و دلیری کا ایک بے مثل نمونہ ہے مگر جگہ کی قلت کی وجہ سے میں ایک