انوارالعلوم (جلد 1) — Page 537
دو واقعات سے زیا دہ نہیں لکھ سکتا۔حضرت انسؓ فرماتے ہیں کہ کَانَ فَزَعٌ بِالْمَدِیْنَۃِ فَاسْتَعَارَالنَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَرَسًالَنَا یُقَالُ لَہٗ مَنْدُوْبٌ فَقَالَ مَارَاَیْنَا مِنْ فَزَعٍ وَاِنْ وَجَدْنَاہُ لَبَحْرًا(بخاری کتاب الجھادباب اسم الفرس والمحار)مدینہ میں کچھ گھبراہٹ تھی پس نبی کریم ﷺ نے ہمارا گھوڑا مستعارلیا جس کا نام مندوب تھا اور فرمایا کہ ہم نے کو ئی گھبراہٹ کی بات نہیں دیکھی اور ہم نے تو اس گھوڑے کو سمندر پا یا یعنی نہایت تیزوتند۔حضرت انسؓ نے ایک حدیث میںاس واقعہ کی طرف اشارہ فر مایا ہے کہ ایک دفعہ مدینہ میں کسی غنیم کے حملہ آور ہو نے کی خبر تھی اورمسلمانوں کو ہر وقت اس کے حملہ آور ہونے کا انتظار تھا۔ایک رات اچانک شور ہوا اور دور کچھ آوازیں سنا ئی دیں۔صحابہ ؓفوراً جمع ہونے شروع ہو ئے اور ارادہ کیا کہ جمع ہو کر چلیں اور دیکھیں کہ کیا غنیم حملہ آور ہو نے کے لیے آرہا ہے۔وہ تو ادھر جمع ہو تے اور تیار ہوتے رہے اورادھر رسول کریمﷺ بغیر کسی کو اطلاع دیے ایک صحابی ؓ کا گھوڑا لے کر سوار ہو کر جدھر سے آوازیں آرہی تھیں ادھر دوڑے اور جب لوگ تیار ہوکر چلے تو آپؐ انہیں مل گئے اور فرمایاکہ گھبراہٹ کی تو کوئی وجہ نہیں شور معمولی تھا۔اور اس گھوڑے کی نسبت فر ما یا کہ بڑا تیز گھوڑا ہے اور سمندر کی طرح ہے یعنی لہریں مار کر چلتا ہے۔اس واقعہ سے ہر ایک شخص معلوم کر سکتا ہے کہ آپؐ کیسے دلیر وجری تھے کہ شور سنتے ہی فوراًگھوڑے پر سوار ہو کر دشمن کی خبر لینے کو چلے گئے اور اپنے سا تھ کو ئی فوج نہ لی۔لیکن جب اس واقعہ پر نظر غائر ڈالی جا ئے تو چند ایسی خصوصیات معلوم ہوتی ہیں کہ جن کی وجہ سے اس واقعہ کو معمولی جرأت و دلیری کا کام نہیں کہہ سکتے بلکہ یہ واقعہ خاص طور پر ممتاز معلوم ہو تا ہے۔اول امر جو قابل لحاظ ہے یہ ہے کہ جرأت و دلیری دو قسم کی ہو تی ہے ایک تو وہ جو بعض اوقات بزدل سے بزدل انسان بھی دکھا دیتا ہے اور اس کا اظہار کمال مایوسی یا انقطاع اسباب کے وقت ہوتا ہے اور ایک وہ جو سوائے دلیر اور قوی دل کے اور کو ئی نہیں دکھا سکتا۔پہلی قسم کی دلیری ہم دیکھتے ہیں کہ ایسے ایسےجانوروں سے بھی ظاہر ہو جا تی ہے جو جرأت کی وجہ سے مشہور نہیں ہیں مثلاً مرغی ان جانوروں میں سے نہیں ہے کہ جو جرأت کی صفت سے متصف ہیں بلکہ نہایت ڈرپوک جانور ہے مگر بعض اوقات جب بلی یا چیل اس کے بچوں پر حملہ کرے تو یہ اپنی چونچ سے اس کا مقابلہ کر تی ہے۔اور بعض اوقات تو ایسے بھی دیکھا گیا ہے کہ چیل مرغی کا بچہ اٹھا کر لے گئی تو وہ اس کے پیچھے اس زور سے کودی کہ دو دو گز تک اس کا مقابلہ کیا۔حالانکہ مرغی لڑنے والے جانوروں میں