انوارالعلوم (جلد 1) — Page 535
رحمت و شفقت کا ایسا اعلیٰ نمونہ دکھا تے رہے جو عام انسان تو کجا دیگر انبیاءبھی نہ دکھاسکے۔اس حدیث کے علاوہ ایک اور حدیث بھی ہے جس سے آپؐ کے وقار کا علم ہو سکتا ہے اور گو یہ حدیث میں پہلے بیان کر چکا ہوں کیونکہ اس سے آپؐ کے یقین اور ایمان پر بھی روشنی پڑتی ہے لیکن چونکہ اس حدیث سے آپ کے وقار کا حال بھی کھلتا ہے اس لیے اس جگہ بھی بیان کر دینا ضروری معلوم ہو تا ہے۔سراقہ بن جعشم کہتا ہے کہ جب رسول کریمؐ مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہو ئے تو مجھے اطلاع ملی کہ آپؐ کے لیے اور حضرت ابوبکر ؓ کے لیے مکہ والوں نے انعام مقرر کیا ہے جو ایسے شخص کو دیا جا ئے گا جو آپؐ کو قتل کردے یا قید کر لا ئے۔اس پر میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگا اور چاہا کہ جس طرح ہو آپ کو گرفتار کر لوں تا اس انعام سے متمتع ہو کر اپنی قوم میں مالدار رئیس بن جاؤں۔جب میں آپ کے قریب پہنچا میرے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور میں زمین پر گر پڑا۔اس پر میں نے اٹھ کر تیروں سے فال نکالنی چاہی کہ آیا یہ کام اچھا ہے یا براکروں یانہ کروں اور تیروں میں سےوہ جواب نکلا جسے میںناپسند کرتا تھا یعنی مجھے آپ کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے۔مگر پھر بھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہو گیا اور آپ کے پیچھے بھا گا اور اس قدر نزدیک ہو گیا کہ آپ کی قراءت کی آواز آنے لگی اور میں نے آپؐ کو دیکھا کہ آپؐ بالکل کسی طرف نہ دیکھتے تھے مگر حضر ت ابوبکر ؓ بار بار ادھر ادھر دیکھتے جا تے تھے۔اس حدیث سے بھی معلوم ہو تاہے کہ آنحضرت ﷺ میں صفت وقار نہایت اعلیٰ درجہ پر تھی اور آپ خطر ناک سے خطرناک اوقات میں بھی اپنے نفس کی بڑا ئی کو نہ چھوڑ تے تھے۔اور خواہ آپؐ کو گھر میں بیٹھے ہو ئے اپنے شاگردوں سے معاملہ کر نا پڑے جو دین کی جدت کی وجہ سے بار بار سوال کرنے پر مجبور تھےاور خواہ میدان جنگ میں دشمن کے ملک میں خطرناک دشمنوں کے مقابلہ میں آنا پڑے ہر دو صورتوں میں آپؐ اپنے وقار کو ہا تھ سے نہ دیتے۔اور جس وقت صابر سے صابر اور دلیر سے دلیر انسان چڑ چڑا ہٹ اور گھبراہٹ کا اظہار کرے اس وقت بھی آپؐ وقار پر قائم رہتے اور تعلیم اور جنگ دو ہی موقعے ہو تے ہیں جہاں وقار کا امتحان ہو تا ہے او رجاننے والے جا نتے ہیں کہ اسی وجہ سے استادوں کو اپنے اخلاق کے درست کر نے کی کیسی ضرورت رہتی ہے اور جو استاد اس بات سے غافل ہوجائے اور اپنی ذمہ داری کو نہ سمجھے بہت جلد طلباء اس کے اخلاق کو بگاڑ دیتے ہیں یہی حال میدان جنگ میں بہادر سپا ہی کا ہو تا ہے جو باوجود جرأت اور بہادری کے بعض اوقات وقار کھو بیٹھتا ہے اور چھچھوراپن اور گھبرا ہٹ کا اظہار کر بیٹھتا ہے مگروہ نیکوں کا نیک۔