انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 397 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 397

کام آپﷺ کا کام کیونکر سمجھا جا سکتا ہے جو کہ بنی اسرائیل کے نبی ہیں ان کا کام تو ان کی طرف منسوب ہو گا یا حضرت موسیٰؑ کی طرف۔اب ایک خصوصیت آپﷺ کی قبر کی تھی وہ بھی یہ برداشت نہیں کر سکے اور کر مسیح ؑ کو بھی آپ کی قبر میں داخل کردیا تاکہ جب سب سے پہلے رسول کریمﷺکی قبر کھلے تو یہ بھی اس فضیلت میں شامل ہوں۔کاش عام مسلمان ہی غور کرتے کہ ان کے علماء ان کو کس راہ پر چلا رہے ہیں۔غرض یہ حدیث صریح طور سے اس حدیث کو رد کرتی ہے جو مولوی محمد یوسف صاحب نے پیش کی تھی۔اور اول تو وہ حدیث ثابت ہی نہیں ابن جوزی کا قول ہے جس کا وہ حال ہے کہ حضرت سید عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ جیسے بزرگ پر فتویٰ دیا اورمخالفت کی اور اگر بہ فرض محال اس حدیث کا درجہ دے بھی دیں تو اس کے وہ معنی نہیں ہو سکتے جومولوی صاحب نے کئے ہیں۔کیونکہ اس طرح مسلم کی صحیح حدیث کا رد ہو تا ہے علاوہ ازیں کون مسلمان برداشت کر سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺکی قبر کھودی جائے یہ بات تو انسان اپنے دشمن کے لئےبھی برداشت نہیں کر سکتا۔قبر خود تاتو مردہ کو اذیت دینا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے تو قبر پر کھڑےہونے اور اس پر تکیہ لگانے تک سے منع فرمایا ہے کہ مردہ کو اذیت ہوتی ہے۔پھر مسلمان کیونکربرداشت کرتے ہیں کہ مسیحؑ کی خاطر آپ ﷺکی قبر کھودی جاوے گی۔نعوذبالشر من زيف۔يتم اس پرغور کرو اور نبی کریم ﷺسید ولد آدم کی قبر کی اتنی توہیں نہ کرو! اب ہم اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کاز کر حافظ روشن علی صاحب نے بوقت مباحثہ کیا تھااور جس پر مولوی محمد یوسف صاحب نے شور مچایا تھا۔کہ یہ حدیث ہی نہیں دیکھو کتاب بشریٰ كليب بلقاء الحبيب امام سیوطی رحمتہ اللہ علیہ ممطبوع مصر صفحہ نمبر ۵۱،۵۷- اخرج البیھقی و ابن ابی الدنیاعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله علیہ وسلم القبر روضة من ریاض الجنة او ھفرة من حفر الدنیا۔یعنی بیہقی نے اور ابن ابی الدنیا دونوں نے حضرت ابن عمر سے اپنی کتابوں میں روایت کی تھی کہ فرما رسول اللہ ﷺنے کہ قبرجنت کے چمنوں میں سے ایک چمن ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے اب اس حدیث سے قبر کے معنی جنت کے چمن بھی ہو گئے۔پس خود رسول اللہ ﷺ کے قول سے ابن جوزی کی حدیث کے معنی ہو گئے کہ حضرت مسیح موعودؑ رسول اللہ اﷺکے ساتھ جنت میں داخل کئے جاویں گے۔کیونکہ خادم آقا کے ساتھ اکٹھا ہی رکھا جاتا ہے۔اسی طرح ابن مندہ نے حضرت ابو ہرہ ؓ سے یہ حدیث روایت کی تھی کہ عن ابی ھریرة عن رسول الله صلى الله علیہ وسلم قال المؤمن فی قبرہ فی روضة الخضراء ولیرحب لہ فی قبرہ سبعون ذراعا و ینور لہ فی قبرہ کلیلة البدر۔