انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 398 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 398

یعنی حضرت ابو ہریرہ ؓنے فرمایا رسول اللہ ﷺسے کہ آپﷺ نے فرمایا مؤمن اپنی قبر میں ایک سبز چمن میں ہو تا ہے اور اس کی قبر اس کے لئے سترہاتھ چوڑی کی جاتی ہے اور اس کی قبر چودھویں رات کی طرح روشن کی جاتی ہے اس حدیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قبرسےمراد یہ قبر نہیں بلکہ جنت کی کسی جگہ کانام ہے یا جنت سے پہلے کوئی اور مقام ہے جہاں مومن کو رکھا جاتا ہے۔اور ہر طرح کی کشائش وہاں ہوتی ہے۔ورنہ اگر اس قبر کے معنی کے جادیں تو آج تک اتفاقی طور پر بہت سی قبریں کھدی کہیں میں قبر میں باغ نظر نہیں آیا۔اور نہ قبرسترہاتھ چوڑی لمبی معلوم ہوئی ہے۔اگر یوں ہو تو قبرستانوں کے لئے جگہ ہی نہ ملے۔اس حدیث کے یہی معنی معلوم ہوتے ہیں کہ قبروہی مقام ہے جہاں کہ وفات کے بعد مومن کو رکھا جاتا ہے۔اور وہ مکان ستر گز چھوڑ کر اگر ستر ہزار گز بھی ہو تب بھی اس کے مانے میں نہ کسی حدیث کا خلاف ہوتا ہے اور نہ مشاہدہ اس کا انکار کر سکتا ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔قُتِلَ الْاِنْسَانُ مَاۤ اَكْفَرَهٗمِنْ اَیِّ شَیْءٍ خَلَقَهٗ مِنْ نُّطْفَةٍ-خَلَقَهٗ فَقَدَّرَهٗۙ ثُمَّ السَّبِیْلَ یَسَّرَهٗۙ ثُمَّ اَمَاتَهٗ فَاَقْبَرَهٗۙ ثُمَّ اِذَا شَآءَ اَنْشَرَهمطلب ”انسان ہلاک ہو کس چیز نے اس کو کفر کی تعلیم دی ہے اللہ تعالیٰ نے اسے کس چیز سے پیدا کیا ہے ایک نطفہ سے پیدا کیا ہے۔پھر اس کے لئے ہر قسم کے اندازے مقرر کئے۔پھر ہدایت کے راستے میں سہولتیں پیدا کیں۔پھر اسے مارا اور قبر میں دفن کیا پھر جب چاہے گا اٹھا\" عبس(۲۳-۱۸) ان آیات سے معلوم ہو تا ہے کہ قبر سے کیا مراد تھی۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قبر میں ہم داخل کرتے ہیں معلوم ہوا کہ قبر سے یہی مٹی کی قبر مراد نہیں ہوتی جس میں انسان کے عزیز و رشتہ دارداخل کرتے ہیں۔بلکہ اس سے کوئی ایسی مقام بھی مراد ہوتا ہے جس میں اللہ تعالیٰ خود اپنے خاص اِذن سے داخل کرتا ہے پس خلاصہ جواب یہ ہے کہ غلام سرور صاحب کے اشتہار میں اظہار امر واقعہ میں صریح تحریف کی گئی ہے اور جو حدیث مولوی محمد یوسف نے پیش کی تھی وہ قطعاًعلم حدیث کی رو سے ثابت نہیں ہے اور اگر بہ فرض اس کو مان بھی لیں تو اس کے جو معنی وہ کرتے ہیں۔اس میں نہ صرف رسول کریم ﷺ کی ہتک ہے بلکہ جس کو کوئی غیور مسلمان برداشت نہیں کر سکتا بلکہ وہ مسلم کی صحیح حدیث کے خلاف ہے اور یہ کہ بعض دیگر حدیثوں سے اس حدیث کے معنی