انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 396 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 396

قطعا ًرسول الله لﷺتک ثابت نہیں اور اس کے راویوں کے نام تک بھی معلوم نہیں۔رسول اللہ ﷺکے پانچ سو سال بعد ایک شخص یہ حدیث بیان کرتا ہے۔اب ہم یہ بتاتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح حدیثوں کے خلاف ہے۔چنانچہ صحیح مسلم میں حدیث ہے۔قال رسول الله صلى الله علیہ وسلم انا سيد ولد ادم يوم القيمة وأول من ينشق عنه القبرو اول شافع و اول مشفع( کتاب الفضائل جلد دوم،) ترجمہ رسول الله ﷺنے فرمایا ہے میں ہی اولاد آدم کا سردار قیامت کے روز ہوں اور میں ہی ہوں جس کی قبر سب سےپہلے کھلے گی اور میں ہی سب سے پہلا شفاعت کرنے والا ہوں، اور میں ہی ہوں جس کی شفاعت سب سے پہلے قبول کی جاوے گی۔اس حدیث میں صریح معلوم ہو تا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دیگر انبیاء ؑو اولیاء پر جو فضیلتیں دی گئی ہیں ان میں سے یہ بھی ہے کہ آپ کی قبر سب سے پہلے کھلے گی۔اگر حضرت عیسٰؑی آپﷺ کی قبر میں دفن ہوں گے تو پھر وہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ میری قبر پہلے کھلی۔وہ قبر تو پھر حضرت رسول کریم ﷺور حضرت مسیح ؑمیں مشترک ہو گئی۔اس لئے پہلے کھلنےسے رسول الله ﷺ کی تو کچھ شان ثابت نہیں ہوتی۔کوئی کہہ سکتا ہے کہ وہ قبربوجہ مسیح کےکھولی جائے گی۔اور اگر اس فضیلت میں کسی کو آپ ﷺکے ساتھ شامل کر دیا گیا تو جائز ہو گا کہ دو سری خصوصیات میں بھی دوسرے لوگ آپ کے ساتھ شامل ہو جائیں اور آپ کے ساتھ اور انبیاء کو بھی شفاعت کی اجازت مل جائے اور وہ بنی آدم کے سردار کالقب پائیں۔افسوس!کہ اب اسلام کی حقیقت یہ باقی رہ گئی ہے۔کہ ایسے بھی مسلمان ہیں جو رسول اللہ اﷺکی کوئی خصوصیت پسند نہیں کرتے۔آپ خاتم النبیّن تھے لیکن ان مسلمانوں نے کہا کہ ہم آپﷺ کو خاتم النبیّن بننے نہ دیں گے۔اور حضرت مسیح ؑکو انیس سو برس کے بعد آسان سے کھینچ بلایا اب جو آخر میں آئے گا وہ خاتم النبیّن ہو گایاجو پہلے آیا تھا وہ خاتم النبین ہوگا ؟کاش و ہ خیال کرتے کہ اس طرح رسول اللہ ﷺکی خصوصیت ختم نبوت کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خاتم النبیّن تو حضرت مسیحؑ بن جاتےہیں جن کے بعد اور کوئی نبی نہ ہو گا جو آدمی خداتک پہنچے کا ان کے فیض سے پائے گا پھر رسول اللہ ﷺکی خصوصیت تھی کہ آپ کے ہاتھ پر ليظهر على الدين کلہ کی پیشگوئی پوری ہوگی۔وہ بھی انہوں نے مسیحؑ ناصری کے ذمہ لگا دی کہ اس کے زمانہ میں اسلام دنیا میں کلی طور پر پھیلے گا اگر یہ کام رسول اللہ ﷺ کا کوئی خادم کر تا تب تو رسول اللہﷺا کا کام سمجھا جا تا۔حضرت مسیحؑ کا۔۔