انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 368

انسان جس قسم کا ہو اسی قسم کی باتیں کیا کرتا ہے۔اس کے متعلق مجھے ایک قصہ یاد آیا ہے۔رابعہ بصریؒ ایک مشہور بزرگ عورت گذری ہیں۔ان کے سامنے چند آدمیوں نے مسجد میں دنیا کی مذمت کی اور اس قدر مذمت کی کہ عصر کا وقت آگیا۔عصر کے بعد پھر اس طائفہ نے دنیا کی مذمت شروع کردی۔آپ نے غضب ناک ہو کر کہا کہ اتنا تم دنیا کے طالب ہواسی لئے دنیا کا ذکر کرتے ہو کیونکہ انسان کو جو چیز پسند ہو اسی کا ذکر کرتا ہے بعض اوقات محبوب کے شکوہ میں وہی مزا آتا ہے جو اس کی تعریف میں آیا کرتا ہے غرض انسان کو جس سے محبت ہو اسی کا اکثر ذکر کرتا ہے۔یہی اصل ہاتھ میں لے کر رسول کریم ﷺ کی زندگی پاک ثابت کرنے کو میرے لئے قرآن مجید کافی ہے۔كان خلقہ القران یوں تو عیسائیوں نے آپ کے خلاف کتابیں لکھی ہیں۔اور مسلمانوں نے مجاہد النبی میں جو کچھ لکھا ہے وہ بہت زیادہ ہے۔لیکن ایک معترض کہے گا کہ یہ دونوں نا قابل اعتبار ہیں۔ایک مسلمان نے خوش اعتقادی سے کہنا ہی ہوا کہ آپﷺ کی توجہ ہر وقت خدا کی طرف لگی رہتی تھی۔اور ایک عیسائی کامذہبی فرض ہے کہ اس کےخلاف کہے۔پس تاریخ معیار نہیں۔ہاں قرآن شریف ضرور قابل اعتماد ہے جو تبدیل نہیں ہوا۔عیسائیوں اور یہودیوں کے خیال میں نبی کریم ﷺ کا اپنا بنایا ہوا ہو۔اور مسلمانوں کے نزدیک خدا کا کلام۔دونوں صورتوں میں نبی کریم ﷺ کی زندگی پاک اور مطّہرثا بت ہو تی ہے۔کیونکہ ان پاک خیالات کا منبع وہی قلب ہو سکتا ہے جو ہر قسم کی آلائشوں سے پاک ہو۔اگر کوئی قلب اس قسم سے پاک و جامع کلام کا اہل ہو تاتو آدم ؑسے لے کر آپ ﷺکے زمانہ تک کسی اور نبی پر یہ القاء ہوتا۔ابراہیم ؑبھی خدا کو بہت پیارا تھا۔موسیٰؑ بھی بہت پیارا تھا۔عیسیٰ بھی۔مگر ان پیاروں میں سے کسی کو وہ کلام نہ دیا بلکہ اپنے سب سے پیارے نبی عربیﷺ کو دیا۔انسان کی فطرت میں بھی یہ امر ہے کہ وہ اعلی ٰسے اعلی ٰعمدہ سے عمدہ چیز اپنے پیارے بچے کے لئے رکھتا ہے۔پس خدا نے بھی اپنا لاثانی کلام اپنے اسی بندے کو دینا تھا جو سب پیاروں سے زیادہ پیارا تھانہ کہ کسی گندوں سے بھرےہوئے انسان کو جیسا کہ نعوذ باللہ مخالفین کا آنحضرتﷺ کے بارے میں گمان ہے۔غور کرنےکی بات ہے کہ قرآن مجید کا کوئی رکوع بلکہ کوئی آیت عظمت و جبروتِ الہٰی کے ذکر سے خالی نہیں۔جس سے واضح ہوتا ہے کہ آنخضرتﷺ کو کس قدر تعلق و اخلاص اللہ تعالیٰ سے تھا پھر مختلف حالات و اوقات کے متعلق جو احکام ہیں ان پر غور کریں تو بھی آپﷺ کی پاک و مطّہر زندگی کا ثبوت ملتا ہے ، جب ہم کھانا کھانے بیٹھتے ہیں تو ارشاد ہوتا ہے دیکھو کیا کرنے لگے ہو پہلے بسم اللہ کہہ