انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 369 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 369

لو۔جب کھانا کھا چکتے ہیں تو حکم ہو تا ہے الحمد للہ کہہ لو ورنہ ناشکری ہوگی۔اس ذات کا شکر ضروری ہے جس نے رز ق بخشا ، صحت بخشی معدہ دیا، دانت دیئے۔اسی طرح جب ہم کوئی کام شروع کرنے لگتے ہیں تو وہ خیر خواہ ہمیں ہدایت کرتا ہے کہ تمهارا علم ناقص ہے تمہاری قوت میں کمزوری ہے پس اس پاک و قدوس قادر و مقدر سے مدد مانگ کر شروع کرو استخارہ کر لو۔نکاح کے لئے یٰۤاَیُّهَاالنَّاسُ اتَّقُوْارَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ (النساء:۲) سناکر خد اکاڈر یا د دلا دیا۔اسی طرح جب ہم صبح کے وقت نیند سے اٹھتے ہیں تو ہم کو حکم ہوتا ہے کہ کام شروع کرنے سے پہلے خدا کی تسبیح و تحمید و تقدیس کر لو۔پھر جب سورج ڈھلنے لگتا ہے تو یاد خدا کا حکم ہوتا ہے تاکہ تمہاری روحانیت کا آفتاب اسی طرح زائل نہ ہو جائے۔پھر عصر کے وقت جب آفتاب کی حدت بہت کچھ کم ہو جاتی ہے تو پھر خدا کے حضور گڑ گڑانے کا حکم دیا۔پھر جب سورج ڈوب جاتا ہے تو اس وقت بھی دعا کا حکم ہےکہ الہٰی جس طرح یہ جسمانی سورج ڈوب گیا ہے روحانی سورج نہ ڈوب جائے اور ہم انوار خداوندی سے محروم نہ رہ جائیں۔پھر جب بالکل اند ھیرا پڑ جاتا ہے تو پھراس نور السموت والارض(النور: ۳۶) کے حضور کھڑا ہونے کاحکم دیتا ہے ایسا نہ ہو کہ ہم طرح طرح کی ظلمات میں ر کر تباہ ہوجائیں۔یہ تعلیم یہ پاک تعلیم کیا کسی گندے انسان کے دل سے نکل سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ یہ اسی شخص کےپاک قلب سے نکل سکتی ہے جس کی زندگی نہایت مطہر اور سارے جہان کے لئے نمونہ ہو، یا د رکھو جو شخص دنیا کو جس قدر دین کی طرف متوجہ کرتا ہے یقینا وہ اس قدر خدا کا والہ و شیداہے۔پس یہ تعلیم کہ اٹھتے بیٹھتے ، کھاتے پیتے، چلتے پھرتے ہروقت خدا کو یاد رکھو۔اس اخلاص، اس محبت، اس عشق، اس پیار، اس شیفتگی کا پتہ دیتی ہے جو نبی کریم ﷺکو خدا سے تھی۔پھر اسی تعلیم کا اثر دیکھ کر مسلمانوں کے بچے بوڑھے جوان عورتیں سب اسی رنگ میں رنگین ہیں۔کوئی بچہ گرتا ہے تو فوراً منہ سے حسبک اللہ، جب کوئی خوشی ہوتی ہے تو زبانیں پکار اٹھتی ہیں الحمدللہ - آخر یہ بات کس نے ان کے دل میں ڈالی؟ رسول کریمﷺ نے۔انسان اپنے پیارے کا نام کسی نہ کسی بہانے سے ضرور سننا چاہتا ہے۔پس نبی کریم ﷺکا پیار ا تو خدا تھا۔آپ نے ہر حرکت و سکون ہر قول و فعل سے پہلے پیارے کا نام بتا دیا۔سب سے نازک خطرناک موقعہ تو انسان کے لئے وہ ہوتا ہے جب شہوت کا بھوت اس کے سر پر سوار ہو۔جس وقت انسان سب کچھ بھول کر صرف اسی خیال میں محو ہو جا تا ہے۔اور جب وہ دنیا اور دنیا کے پیاروں سے الگ ہو کر ایک پیارے میں