انوارالعلوم (جلد 1) — Page 367
بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم مدارجِ تقویٰ (تقرير جلسہ سالانه ۱۹۱۱ء) قُلْ یٰعِبَادِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوْا رَبَّكُمْ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةٌؕ-وَ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةٌؕ-اِنَّمَا یُوَفَّى الصّٰبِرُوْنَ اَجْرَهُمْ بِغَیْرِ حِسَابٍ (الزمر ۱۱) درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہےحضرت مسیح ناصریؑ فرماتے ہیں۔درخت اپنےپھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔یہ ایک ایسا پکا سچااورایسا پاک کلمہ ہے کہ اس میں زمانے کے تغیرات، ملکوں ،حکومتوں ، علموں اور سانوں کےتغیّرات نے ذرا بھی تبدیلی نہیں پیدا کی۔۹۰۰) و برس گذر گئے۔لیکن اب بھی ہم دیکھتے ہیں کہ یہ فقرہ’’درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔‘‘بالکل صحیح ہے۔جب میں رسول کریمﷺا کی صداقت کو اسی جملہ میں مرکوز دیکھتا ہوں تو یہ فقرہ مجھے بڑا مزادیتا ہے۔واقعی درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔دیکھو آم کا درخت ہے۔اس میں اگر ایسے پھل نہیں لگتے جس سے لوگ نفع اٹھائیں تو وہ آم کس کام کا۔اگر وہ شیریں پھل دیتا ہے تو آم ہے ورنہ ایک لکڑی سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔اسی طرح اگر انگور کی بیل میں انگور عمدہ لگتے ہیں تووہ انگور ہے ورنہ محض ایک گھاس ہے۔رسول کریمﷺ اسلام کی پاک زندگی کا معیارہمارے رسول اللہ ﷺ کی ذات پربہت سے اعتراض کئے جاتے ہیں اوربعض بے باک شریر آپ کو بدیوں میں ملوث بتاکراس سورج کو چھپانا چاہتے ہیں جس سے تمام جہان روشن ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ یہی فقرہ آپﷺ کے چال چلن کی برّیت کے لئے کافی ہے۔کیونکہ