انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 645 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 645

ہو اور جس قدر اللہ تعالیٰ کے نیک بندے ہیں سب پر سلامتی نازل ہو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کےسوا کوئی معبود نہیں وہ ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد اس کے خادم اور مخلوق ہیں* (خدا نہیں ہیں نہ اس کے بیٹے )اور اس کے ایک رسول ہیں۔اس حصہ کو تشہد کہتے ہیں۔درود شریفاس کے بعد وہ اسی طرح بیٹھا ہوا یہ پڑھتا ہے اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا صَلَّیْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰٓی اٰلِ مُحَمَّدٍ کَمَا بَارَکْتَ عَلٰٓی اِبْرَاھِیْمَ وَعَلٰٓی اٰلِ اِبْرَاھِیْمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْد ترجمہ۔اے اللہ محمدﷺ پر اور اس کے سچے متّبعین پر تو اسی طرح رحمتیں نازل کر جس طرح ابراہیم اور اس کے مّتبعین پر رحمتیں نازل کیں تو بڑی تعریف اور بزرگی والا ہے۔اے اللہ تو محمدﷺ اور اس کے سچے متبعین کو درجوں میں بڑھاجس طرح تو نے ابراہیم اور اس کے متبعین کو درجوں میں بڑھایا تھا تو بڑی حمد والا اور بزرگی والا ہے۔اس حصہ کو درود کے ہیں۔دعائیںپھراسی حالت میں بیٹھا ہوا یہ دعائیں یا ان میں سے کوئی دعا پڑھتا ہے (۱) اللھم انی ظلمت نفسي ظلما كثيرا ولا يغفر الذنوب إلا أنت فاغفرلی مغفرة من عندك وارحمني انک أنت الغفور الرحیم (بخاری کتاب الدعوات باب الدعا فی الصلوة) (ب) اللهم إني أعوذ بك من الهمِّ والحزن، والعجز والكسل، والجبن والبخل، وضلع الدَّين، وغلبة الرِّجال (ج) رب اجعلنی مقیم الصلوة و من ذریتی ربنا وتقبل دعاء (ابراہیم :۴۱) (د) ربنا اغفر لي و لوالدی و اللمؤمنين يوم يقوم الحساب ( ابراہیم : ۴۲) ربنا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرہ:۲۰۲) (1) اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کئے ہیں۔اور کوئی گناہ نہیں معاف کر سکتا مگر توپس تو *چونکہ ہر ایک قوم نے اپنے رسول کو اس قدر عظمت دے دی تھی کہ اسے خدایااس کا شریک یا اس کابیٹا بنالیا تھا۔اس لئے اسلام نے الله تعالیٰ کی توحید کے اقرار کے ساتھ اپنے مخلوق ہونے کا اقرار کرنا بھی ہر ایک متبع پر ضروری کر دیا۔تاکہ ایسانہ ہو کسی وقت مسلمان بھی اپنےرسول کو خدا یا اس کابیٹا سمجھ لیں بلکہ اپنی عبادت میں اقرار کرتے رہیں کہ ان کا رسول اللہ کا ایک بندہ تھا۔اسے صرف ایک امتیاز حاصل تھاکہ اور بہت سے رسولوں کی طرح وہ بھی ایک رسول تھا۔منہ