انوارالعلوم (جلد 1) — Page 644
کے محامد کا اقرار کرے اللہ تعالیٰ اس کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔پھر کہتا ہے ربنا ولک الحمد حمدا كثيرا طيبا مبار کا فیہ اے ہمارے رب تو خوبیوں والا ہے بہت خوبیوں والا ہے جو پاک اور برکت والی ہیں پھر الله اكبر کہتا ہؤا سجدہمیں گرجاتا ہے۔اور کم از کم تین دفعہ یہ الفاظ کہتا ہے سبحان ربی الاعلی میرا بڑی شان والارب پاک ہے پھرالله اکبر کہتاہؤ ااٹھ کر گھٹنوں کے بل بیٹھ جاتا ہے اور دائیں پاؤں کو انگلیوں کے بل کھڑا رکھتا ہے لیکن بائیں پاؤں کو زمین پر بچھا کر اس پر بیٹھ جاتا ہے۔اور کہتا ہے اللهم اغفرلی وارحمني واهدنی وعافني وارفعنی اجنووارز قنی اے اللہ میرے گناہوں کو بخش اور مجھ پر رحم کر اور مجھے ہدایت دے اور ہر ایک شے محفوظ رکھ اور مجھےعزت عطا کر اور میری اصلاح کر اور مجھے رزق دے اس کے بعد پھر الله اکبر کہہ کر سجدہ میں چلاجاتا ہے۔اور وہی الفاظ کہتا ہے۔جو پہلے سجدہ میں کہے تھے۔اور پھر الله اکبر کہہ کر کھڑا ہو جاتا ہے(اس حد تک جتنی نماز ہو چکی ہے اسے ایک رکعت کہتے ہیں۔اور نماز میں دو رکعت کی بعض تین کی اور بعض چار ر کعتوں کی ہوتی ہیں) اور جس طرح پہلی رکعت پڑھی تھی اسی طرح پھر پڑھتا ہے۔لیکن پہلی رکعت میں جو یہ دعاپڑھی تھی سبحانك اللهم وبحمدک اسے نہیں پڑھتا۔بلکہ سورۃ فاتحہ سے ابتداء کرتا ہے اوراس کے بعد کوئی حصہ قرآن شریف کا پڑھتا ہے اور پھر سب کچھ اسی طرح کرتا ہے۔جس طرح پہلی رکعت میں کیا تھا۔جب دوسری رکعت کے دونوں سجدوں سے فارغ ہو چاہے تو پہلی رکعت کی طرح کھڑا انہیں ہو جاتا بلکہ جس طرح دونوں سجدوں کے درمیان کشنوں کے بل بیٹھ گیا تھا بیٹھ جاتا ہے اور یہ دعاسے دونوں کی پڑھتاہے۔تشھّدالتحیات للہ والصلوت و الطیبات السلام علیک ایھا النبی و رحمة اللہ و برکاتہ السلام علینا و علی عباد اللہ الصلحین اشھد ان لا الہ الا اللہ و اشھد ان محمداعبدہ و رسولہ ترجمہ۔تمام عبادتیں خواہ زبان کی ہوں یا جسم کی یا مال کی اللہ کے لئے ہی ہیں (یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی ہستی کی عبادت کسی رنگ میں بھی نہیں کرنی) اے محمدﷺ ) مجھ پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی نازل ہو اور اس کی رحمت اور برکت (یعنی بڑھوتی) اور ہم پر بھی سلامتی نازل