انوارالعلوم (جلد 1) — Page 95
۲۷ اس وقت تاریخ کو آپ کی وفات ٹھہرتی۔اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی وفات لیپ ایر (یعنی جس سال میں فروری کے ۲۹ دن ہوں) میں ہوتی تاکہ پورے ۲۲۳ دن کے بعد ۲۶مئی کو فوت ہوں۔پس صاف ثابت ہو تا ہے کہ آپ کی وفات ۱۹۰۸ء میں ہونی چاہئے تھی جو کہ لیپ ایر ہے نہ کہ ۱۹۰۷ء میں جس میں فروری کے ۲۸ دن ہوتے ہیں۔اور ۲۲۳ دن ۲۶/ مئی تک ختم نہیں ہوتے۔بلکہ ۲۷ کو ختم ہوتے ہیں۔اب غور کرنا چاہئے کہ یہ پیشگوئی کی کھلی اور بّین ہے۔ہاں اگر مخالف اب بھی انکارکریں تو سوائے حضرت مسیح موعودؑ کے اس الہام کے کہ "إنما أشكو بثی و حزنی الی اللہ"ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ایک نبی آیا اور ان کے لئے رات اوردن غم کھا کر اس دنیا سے اٹھ گیا اور یہ لوگ اب تک اس سے انکار کرتے ہیں۔ہماری خدا سے یہ خواہش نہیں کہ یہ مخالف ہلاک ہوں بلکہ دل ان کے لئے درد محسوس کرتا ہے۔اور کڑہتا ہے۔اور ایک تڑپ ہے کہ خدا ان کو ہدایت دےاور اپنے نبی کی شناخت ہے۔اگرچہ یہ لوگ ہم پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔مگر ہم ان کے لئےدعائیں کرتے ہیں کہ اے خداۓ قادر تو ہمارے دلوں کو جانتا ہے اور تجھے علم ہے کہ ہمارے دل ان گم گشتہ راہوں کے لئے کیسی تکلیف پاتے ہیں۔پس اسے عالم الغيب والشہادۃ ہمارے دکھوں اورتکلیف کو دیکھ ہم پر رحم کر اور ان غموں سے ہم کو چھڑا اور ہمارے بھائیوں کو ہدایت اور نور کاراستہ جو تیرانبی ہمارے لئے کھول گیا ہے بتا۔اور انہیں اس کی شناخت کی توفیق عطا کر۔ہاں وہ جوشرارت میں حد سے بڑھتے ہیں اور دو سروں کو بھی ہدایت کی راہ سے روکتے ہیں اور ہنسی اور ٹھٹھاکرتے ہیں ان کی حالت کو دیکھ کر بے اختیار ان کی ہلاکت کی دعا نکلتی ہے۔نہ اس لئے کہ ہمیں ان سے کچھ عداوت ہے بلکہ اس لئے کہ ان کی وجہ سے دوسرے لوگ اس چشمہ معرفت سے سیراب ہونے سے محروم نہ رہ جائیں اور شدت پیاس سے ہلاک نہ ہو جائیں جو کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کی حالت کی طرح ان کی حالتوں پر رحم کھا کر اپنے نبی کے ذریعہ سے ان پر ظاہر کیا ہے۔پھر ایک الہام ۲۸ ستمبر ۱۸۹۴ء کا ہے جو مدت سے دنیا میں شائع ہو چکا ہے۔اور وہ ’’داغ ہجرت‘‘( تذکره صفحہ۷۷۲)ہے، اب غور کرنے والے دیکھیں کہ ہجرت ہو ئی تو کیسی ہوئی۔فوت ہوئےتوکہاں لاہور میں جہاں اس واقعہ کے ہونے کا کسی کو وہم تک نہ تھا۔اگر چہ خدا تعالیٰ اپنی وحی میں صاف طور پر لاہور کا ذکر بھی کر چکا تھا۔غرض اس دنیا سے ہجرت ایسے وقت میں ہوئی جب اپنے وطن سے بھی دور تھے اب اس سے زیادہ ہجرت کیا ہو سکتی ہے۔پھربیسں فروری ۱۹۰۷ء کو الہام ہوا کہ افسوسناک خبر آئی اور انتقال ذہن لاہور کی طرف ہوا۔چنانچہ ایسا ہی وقوع