انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 94 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 94

ان کے ذریعہ خدا کا وجود دنیا پر ظاہر ہو جائے اور لوگ ان رسولوں کی سچائی میں شک نہ لائیں۔چنانچہ ایسی قدیم سنت اللہ کے مطابق ہمارے حضرت اقدس ؑسے بھی خداوند تعالیٰ کا ایسا ہی سلوک ہوا۔اور صرف ان کی زندگی میں ہی ان کے ہاتھ پر نشانات نہیں دکھائے گئے بلکہ ان کی وفات خودایک نشان ہے مگر اس کے لئے جو آنکھیں رکھتا ہو۔اور وفات کے بعد بھی بہت سے ایسے نشانات ہیں جو دکھائے جاویں گے اور جن کی اطلاع خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کے ذریعہ سے ایک مدت پہلے ہم کو دیدی ہے۔اور قطع نظر اور نشانات کے حضرتؑ کی وفات خود ایک ایسا زبردست نشان ہے کہ ایک صاحب بصیرت کے ماننے کے لئے کافی ہے۔کیونکہ کس طرح ممکن ہے کہ ایک شخص اپنےمرنے سے تین برس پہلے اپنی وصیت شائع کر دے۔اور اس میں لکھ دے کہ عنقریب اب میں فوت ہونے والا ہوں، اور میری وفات اچانک ہوگی۔اور اڑہائی تین سال کے بعد جبکہ میری تبلیغ کا اکیسواں سال ہو گا اس وقت یہ واقعہ ہو گا۔اور پھر انہیں خوابوں اور الہاموں پر ہی حصر نہیں بلکہ اور بیسیوں امام ہیں جن سے تاریخ وفات اور مہینہ تک بھی ثابت ہوتاہے۔چنانچہ ایک الہام ہے۔علم الدرمان ۲۲۳ (تذکرہ صفحہ ۶۷۷ )اور یہ الہام ۱۵۔اکتوبر۱۹۰۶ء کا ہے۔علم عربی لفظ ہے جس کے معنی ہیں جاننا۔اور درمیان ایک فارسی لفظ ہے جس کے معنی ہیں علاج – یعنی علاج کا علم ۵ اکتوبر سے ۲۲۳ دن بعد ہو جائے گا۔اب دیکھنا چاہئے کہ ۱۵۔اکتوبر سے دو سو تیئسواں دن کون سا ہے۔سو حساب لگا کر دیکھو کہ وہ دن ۲۵- مئی ۱۹۰۸ء ہے۔چنانچہ اس الہام کے مطابق حضرت اقدسؑ ۲۶ مئی کو فوت ہوئے۔اب ایک اور غور طلب امر ہے جس کا شاید مخالف کم فہمی سےانکار کر دے۔اور وہ یہ کہ الہام تو ہوا ہے ۱۹۰۶ کو اور فوت ہوئے ہیں ۱۹۰۸ء میں تو یہ ایک سال اور ۲۲۳ دن ہوئے۔سو یاد رہے کہ اس کی دو وجوہات ہیں۔اول تو یہ کہ اس کے ساتھ ہی الہام ہےکہ ان المنايا لا تطيش سها مھا( تذکرہ صفحہ۲۷۸)یعنی موت کے تیر خطا نہیں جاتے۔(اس سےبھی ثابت ہے کہ یہ ۲۲۳ والا الہام موت کے متعلق ہے) اور پھر اس کے بعد الہام ہوا۔انا نرينک بعض الذی نعدھمم نزید عمرک( تذکرہ صفحہ ۶۷۹ )د یکھور یو یو آف ، ریلیجیز مؤرخہ ۲۰ نومبر۱۹۰۶ء) یعنی تیری وفات تو۱۹۰۷ء میں ہی تھی مگر ہم نے اس عمر کو بڑھا دیا۔چنانچہ پورے ایک سال تک عمر میں ترقی دی گئی۔اور ایک سال کے بعد وہ حساب شروع ہوا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ حضرتؑ کی وفات ۲۹ مئی کو تھی۔اور اگر آپ ۱۹۰۷ء میں فوت ہو جاتے تو ایک تو چند معاندین سلسلہ شور مچا دیتے کہ ہماری پیشگوئی کی معیار کے اند ر فوت ہوئے۔اور ایک یہ کہ