انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 96

۱۹۰۷ میں آیا۔پهر ۲/مارچ ء کو الہام ہوئے (ریویو جلد۶ نمبر۳)إنما يريد الله ليذهب عنكم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا۔ہے تو بھاری مگر خدائی امتحان کو قبول کر۔یايها الناس اتقوا ربکم الله خلقكم۔اے میرے اہل بیت خدا تمہیں شرسے محفوظ رکھے - انت مني و انا منك۔انت الذي طار إلى روحہ ربنا افتح بيننا وبينهم اعجبتم أن تموتوا، ان کی لاش کفن میں لپیٹ کر لائے ہیں »٭ (الہامات ۲۔۷مارچ ۱۹۰۷ء تذکره ۷۰۰۔۷۰۱)، اب دیکھنا چاہئے کہ یہ سب الہام ایک وقت اور ایک دن کے ہیں۔اور اکٹھے ہوئے ہیں۔اور ان سے صاف طور سے حضرتؑ کی وفات نکلتی ہے۔اور ان الہاموں سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے۔کہ حضرت اقدسؑ قادیان سے کہیں باہر فوت ہوں گئے اور آپ کی لاش کفن میں لپیٹ کر یہاں لائی جائے گی۔پھر ۲/ دسمبر ۱۹۰۷ء کو یہ الہام ہوا ہے کہ’’ بخرام کہ وقت تو نزدیک رسید ‘‘- ستائیس کو ایک واقعہ ہمارے متعلق الله خيروابقى ”خوشیاں منائیں گے‘‘ - الہام ۲۰ د سمبر ۱۹۰۷ء تذکره ۷۴۵)"وقت رسید‘‘ - اب اگر ان الہاموں کو ملا کر دیکھا جاوے۔تو صاف ثابت ہوتاہے کہ عنقریب آپ کی وفات ہونے والی ہے۔اور ۲۷ تاریخ سے اس واقعہ کا کچھ تعلق ہو گا۔چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ ستائیس کو قادیان میں دفن کئے گئے۔اور ساتھ ہی الله خيروابقی کا الہام ہے۔یعنی زند ہ تو صرف خدارہتا ہے۔ورنہ سب نے آخر کار مرنا ہے اور کوئی نہیں جو پیدا ہو اور مرے نہیں۔پھر آگے ہےکہ خوشیاں منائیں گے "یعنی مخالفان سلسلہ اس دن بہت ہی خوش ہوں گے۔اور پھر دوباره وضاحت سے بیان فرمایا کہ "وقت رسید"یعنی تیراوقت آپہنچا۔پھر ۲۶/ اپریل ۱۹۰۸ء کو الہام ہوا۔کہ " مباش ایمن از بازئی روزگار"۔چنانچہ اگلے مہینہ اسی وقت اور اسی تاریخ کو حضرت اودسؑ بیمار ہوئے۔پھر لاہور جا کر الہام ہوا، کہ \"مکن تکیہ بر عمرناپائیدار " ٭(تذکرہ صفحہ ۷۵۶) پھر الہام ہو الرحیل ثم الرحیل (تذکرہ صفحہ ۷۵۶، یہ بھی اس بارےمیں تھا۔پھر۷ مارچ ۱۹۰۸ء کو الہام ہوا۔"ماتم کده ‘‘(تذکرہ صفحہ ۷۵۲ ء)۔اور پھر دیکھا کہ’’ جنازہ آتا ہے‘‘۔اس سے یہ بھی معلوم ہو تا تھا کہ آپ کہیں باہر وفات پائیں گے۔اب کیا کوئی عقلمند انسان اس بات سے انکار کر سکتا ہے کہ حضرتؑ کی وفات سنت انبیاء کے طور پر ہوئی اور خدا کے وجود کےلئے ایک بّین شہادت کے طور پر ہوئی۔چنانچہ حضرت صاحب کا اس بارے میں ایک الہام ٭ اس سے معلوم ہوتا ہے۔کہ قادیان کے باہر فوت ہوں گے۔جیسا کہ واقعہ ہوا۔منہ * ٭اس الہام میں سنہ وفات بتایا گیا ہے۔یعنی ۳۱۶ ہجری