انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 50 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 50

انوار العلوم جلد 1 محبت الهی دھرم نے بڑھنا ہی نہ ہوا اور دوسرے لوگ نیک اعمال کریں گے تبھی تو وہ تناسخ کے ذریعہ ہندو دھرم میں جنم لیں گے مگر جب وہ نیک اعمال کریں گے ہی نہیں تو ہندو دھرم بڑھے گا کیونکر اورجب بڑھے گا نہیں تو کم ضرور ہو گا کیونکہ برے اعمال تو ہندوؤں نے ضرور کرنے ہوئے اور اس طرح وہ دوسرے مذاہب میں جا کر جنم لیں گے ۔ اور ہندو دھرم روز بروز گھٹتا ہی جاوے گا اور پھر ایک اور مشکل پیش آدے گی کہ گائے جو کہ ان کے نزدیک ایک بڑا متبرک جانور ہے اس کی جون میں دوسرے مذہب والے جنم لیتے رہیں گے غرضکہ اس طرح پر لازم تھا کہ ہندو مذہب دو چار صدیوں میں ہی تباہ ہو جاتا مگر چونکہ اب تک تباہ نہیں ہوا اس لئے معلوم ہوا کہ یہ بات غلط ہے کہ دوسرے مذاہب والے نیک اعمال نہیں کرتے بلکہ ثابت ہوا کہ وہ نیک اعمال کرتے ہیں اور اس کے بدلے ہندوؤں میں جنم لیتے ہیں اور اس صورت میں وہ ذاتوں کے تمام قوانین جو کہ ہندوؤں میں ایک سخت حکم کے طور پر سمجھے جاتے ہیں فضول ٹھرتے ہیں جیسا کہ ہم پیچھے ثابت کر آئے ہیں اور جب ایک مذہب کی وہ بات جو کہ بڑے ستونوں میں سے ہو رد کی جائے تو باقی کی نسبت ہم کیا امید کر سکتے ہیں اور یہاں تو صرف ایک ہی نہیں بلکہ کئی اور باتیں ہم غلط ثابت کر چکے ہیں۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ نتائج سے عملی طور سے فائدہ کیا مرتب ہوتا ہے۔ اگر تناسخ سے یہ فائدہ خیال کیا جاتا ہے کہ انسان اپنے گناہوں کی سزا بھگت کر پاک ہو جائے تو یہ صورت تو نا ممکن ہے کیونکہ ہر ایک گناہ کے بدلے ایک جون بھگتنی پڑتی ہے اور پھر ہر ایک جون میں گناہ لازم ہوئے تو اس طرح کبھی انسان جونوں کے پھندے سے بچ نہیں سکتا۔ پس ہم نہیں سمجھ سکتے کہ اس جونوں میں بدلنے کے کام سے پر میشور نے کیا فائدہ سوچا ہے ۔ جہاں تک ہم سوچتے ہیں تناسخ کی وجہ سے نجات ایک دم کے لئے بھی حرام ہے۔ پس پر کاش کا عقیدہ رکھنا یا سرگ پر ایمان لانا بالکل غلط اور بے بنیاد ہے ۔ کیونکہ جب نجات ممکن ہی نہیں تو بہشت یا جنت بھی ساتھ ہی نا ممکن ٹھرے۔ میرے وہم میں بھی نہیں آسکتا کہ اس عقیدہ پر ایمان لاکر پھر کوئی شخص نجات کا قائل ہو سکے ۔ اگر اس عقیدہ کو مانیں تو پر میشور کا نعوذ باللہ فریبی ہونا ثابت ہوتا ہے اور اگر اس عقیدہ کا انکار کریں تو پھر مذہب ہنود کا نہا کا سچا ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ پس اب اس صورت میں جو کہ کچھ سناتن دھرمی صاحبان اپنے پر گوارا کرلیں وہی ہم کو بھی منظور ہو گایا تو کہہ دیں کہ بیشک انسان کو خدا نے ایک خیالی جنت کی طرف بلایا ہے حالانکہ بہشت صرف ایک ڈھکو سلا ہے ۔ یا اقرار کریں کہ ہمارا مذہب جھوٹا ہے۔ اگر ہماری رائے پوچھیں تو ہم دوسری بات کو ترجیح دیں گے کہ اصل میں تو یہ مذہب کسی وقت کسی اور