انوارالعلوم (جلد 1) — Page 51
صورت میں خدا کی طرف سے ہی تھا مگر بعض ناخداترسوں نے دنیا کے گمراہ کرنے کے لئے اس میں بہت کچھ ملا دیا جس سے کہ اس مذہب کی صورت مسخ ہو کر اور کی اور ہی بن گئی ہیں اس صورت میں جو الزام خدا پر وارد ہو تاہے وہ بندوں پر لگ جائے گا اور اس میں چنداں کوئی حرج بھی نہیں کیونکہ بروقت اور ہر زمانہ میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہی رہتے ہیں جن کو صرف جھوٹ اور فریب سے ہی دلچسپی ہوتی ہے اور ان کا خیال ہروقت سچائی کو مٹانے کے درپے ہو تا ہے۔اب ایک اور مختصر اعتراض ہم اس عقیدہ پر کرتے ہیں کہ کم سے کم پرمیشور کو لازم تھا کہ ان غریب جونیں بھگتنے والوں کو اس بات کی اطلاع کر دیا کرتا کہ فلاں گناہ اور فلاں قصور کے بدلے میں تم کو یہ سزا دی جاتی ہے جس سے کہ اس انسان کو اتنا فائدہ تو ضرور ہوتا کہ وہ آئندہ اس گناه سے تو بچتا اور جب گناہ کا پتہ ہی ایک آدمی کو نہ دیا جائے گا تو وہ اس سے بچنے کی کیا خاک کوشش کرے گا۔بلکہ بے خبری کی وجہ سے پھر گناہوں میں پھنس کر گناہوں کا ایک اور تو مار اکٹھا کر لے گاجس کی وجہ سے وہ کبھی جو نوں کے چکر سے نجات حاصل کر ہی نہیں سکتا۔پس یہ کیا انصاف اور کس قسم کا عدل ہے کہ بالا گناہ اور بغیر بتائے جرم کے ایک شخص کو سزا دی جاتی ہے حالانکہ یہی لوگ جواس عقید و پرایمان لاتے ہیں اگر کہیں کوئی برٹش مجسٹریٹ غلطی سے کسی مجرم کو بلا بتائے گناہ کے سزا دیتا ہے تو اس قدر واویلا کرتے ہیں کہ جن کی کوئی حد نہیں رہتی ایک طرف تو اخباروں والے وہ شور مچاتے ہیں کہ ان کے آرٹیکل پڑھتے پڑھتے لوگ تھک جاتے ہیں دوسری طرف وکیل اوربیرسٹر جلسوں پر جلسے کر کے پبلک کو جگاتے ہیں کہ دیکھو اس قدر ظلم ہم پر ہو رہا ہے حالانکہ وہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی پھر اسی پر بس نہیں بلکہ بڑے بڑے لیکچرار ملک کا دورہ کرتے ہیں اور دھواں دھار تقریروں سے ایک تنکے کا پہاڑ بنا کر دکھاتے ہیں اور سامعین سے انصاف چاہتے ہیں کہ کیا اب کوئی ظلم کی حد رہ گئی ہے۔مگر یہ لوگ اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ تو بات ہی کچھ نہیں ہماراپر میشور بھی اسی طرح کرتا ہے کہ گناه تو بتاتا ہی نہیں اور جھٹ ایک شخص کو پکڑ کر کتا بنا دیتا ہے تو دوسرے کو بند ر -اگر ان کی فطرت سے یہ بات باہر ہے کہ بغیر خطاکے بتائے کے سزادی جائے اور یا اس کو گناہ سمجھتے ہیں تو سب سے پہلے تو انہیں پر میشور کے مقابلہ میں اجیٹیشن ,Agitation کرنا چاہئے تھا اورجوش کی نمائش کرنی چاہئے تھی کیونکہ جب ذرا سی سزا برداشت نہیں کر سکتے تو بڑی سزا کس طرح برداشت کریں گے۔اب میں اس مسئلہ کو ختم کرتا ہوں اور ناظرین کو یہ بتائے دیتا ہوں کہ اگرچہ میں نے اتمام حجت (Agitatio