انوارالعلوم (جلد 1) — Page 49
بدلہ انسان کو اس صورت میں ملتا ہے وہ اب رہی ہی نہیں اور دنیا سے ایسے عمدہ کام ہی اٹھ گئے ہیں جن سے کہ ایک انسان خودمختار راجہ بنتا تھا اور اس طرح ہم خیال کر سکتے ہیں کہ کچھ مدت کےبعد یہ مذہب مر جائے بلکہ روحانی طور پر اب بھی مردہ ہی ہے کیونکہ اس وقت ان میں کوئی ایسانیک بخت نہیں ہے جس نے کہ نیک کام کرنے کے بعد راجہ مہاراجہ کا درجہ حاصل کیا ہو۔اور اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت بھی ہم میں راجہ مہاراجہ موجود ہیں تو یہ بے فائدہ کی بحث ہوگی۔کیونکہ اس وقت کے راجوں کی حالت تو اظہر من الشمس ہے پس معلوم ہوتا ہے کہ اس مذہب میں سے وہ نیکیاں جن سے کہ با اختیار راجہ کی صورت میں انسان پیدا ہوتا ہے نہیں رہیں اور اس کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ ایسا آدمی کسی اور مذہب میں پیدا ہو جاتا ہے مگر یہ گویا اپنے پیر پر آپ کلہاڑی مارنی ہے کیونکہ اس صورت میں مانناپڑے گا کہ وہ سرے مذاہب بھی سچے ہیں۔اس وقت ایک اور بہت زبردست دلیل ہمارے خیال میں آئی ہے جس سے کہ تناسخ کا ابطال خوب اچھی طرح سے ہو تاہے۔ہنود کو بڑا فخراس بات کا ہے کہ ہم قدیم سے ہیں اور ہم فلاں فلاں سورماؤں کی نسلوں سے ہیں اور دوسری تمام نسلیں پیچھے کی ہیں اور ہماری نسبت کم درجے کی ہیں مگرتناسخ کو مانتے ہوئے یہ عقیدہ بالکل باطل ہو جاتا ہے کیونکہ تمام دنیا کی قوموں کی شناخت تمام نسلوں کا امتیاز اور تمام ملکوں کے باشندوں کا فرق تناسخ کو ماننے کی صورت میں قطعاً نہیں رہتا کیونکہ جو کوئی اچھے کام کرے گا وہ اس مذہب میں آجائے گا اور جو کوئی برے کام کرے گا وہ دوسرے مذاہب کےحصہ میں آجائے گا پس کوئی بڑی بات نہیں کہ ایک شودر نیک کام کر کے برہمنوں کے زمرہ میں جاملے اور ایک برہمن برے کام کر کے عیسائیوں میں جا پیدا ہو۔اور ایک مسلمان اپنے اعمال کی وجہ سے شودروں میں جنم لے پس یہ تمام ذات پات کے جھگڑے لغو اور بیہودہ ہو جاتے ہیں جن پر کہ ہندو دھرم نے بڑا زور دیا ہے۔اگر ایک شودر نیک کام کر کے اگلے جنم میں برہمن بن سکتا ہے تو شودر اور برہمن میں کیا فرق ہو سکتا ہے۔ممکن ہے کہ جس شودر پر کوئی سختی روارکھی جائے وہ اس وقت برہمنوں میں ملنے کا کام کر رہا ہو اور جس پر ان کی ہندو دھرم کے رو سے رعایت کی جائے اس کے اعمال اس وقت ایسےہوں جیسے کہ شودروں کے۔پس کیا اس شودر پر سختی کرنی اور اس برہمن کی رعایت کرنی جن کےاعمال مذکورہ بالا طریق پر ہوں ظلم نہیں ہو گا۔اور اگر یہ کہا جائے کہ دوسرے لوگ نیک اعمال نہیں کرتے تو اس صورت میں بھی بہت مشکل پیش آتی ہے کیونکہ پھر تو گویا کہ پرمیشور نے ہندودھرم کے تباہ کرنے کی نیت کی ہے کیونکہ دوسروں نے تو نیک اعمال کرنے ہی نہ ہوئے اور ہندو