انوارالعلوم (جلد 1) — Page 613
آج میرے ہا تھ میں گرفتار ہیں فوراً مطعم کے اس احسان کی طرف گئی اور اس احسان کو یاد کرکے فر ما یا کہ جس طرح مطعم نے ہمیں قید سے آزاد کر وایا تھا اور دشمنوں کی تکلیف سے بچایا تھا آج اگر وہ زندہ ہوتا تو ایسے خطر ناک دشمنوں کو میں اس کی سفارش سے قید سے آزاد کر دیتا۔اور ہر ایک تکلیف سے امن دے دیتا۔طہارۃ النّفس۔لڑا ئی سے نفرتبہت سی طبائع اس قسم کی ہو تی ہیں کہ وہ بہادری میںتو بےشک کمال رکھتی ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی ان میں ایک قسم کی سختی پیدا ہو جاتی ہے۔اور ان کی بہادری در حقیقت لڑا ئی او ر جھگڑے کا نتیجہ ہو تی ہے او ربجا ئے ایک خلقی خوبی کے،عادت کا نتیجہ ہو تی ہے جیسے کہ بعض ایسے ممالک کے لوگ،جہاں امن و امان مفقود ہو تا ہے اور لوگ آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہتے ہیں۔عادتاً دلیر اور بہادر ہو تے ہیں لیکن ان کی بہادری کوئی نیک خلق نہیں ہو تی بلکہ روزانہ کی عادت کا نتیجہ ہو تی ہے جیسے کہ بعض جانور بھی بہادر ہو تے ہیں،اور یہ بات ان کے اخلاق میں سے نہیں ہو تی بلکہ ان کی پیدائش ہی ایسے رنگ میں کی گئی ہےکہ وہ بہادر ہوں مثلاً شیر چیتا وغیرہ پس جو انسان کہ عادتاً بہادر ہے یعنی ایسے حالات میں اس نے پرورش پا ئی ہے کہ اس کی طبیعت میں سختی اور لڑا ئی جھگڑے کی عادت ہو گئی ہے اس کی بہادری چنداں قابل قدر نہیں لیکن جو شخص کہ لڑا ئی اور جھگڑے سےنفرت رکھتا ہو،موقعہ پر بہادری دکھا ئے اس کی بہادری قابل قدر ہے۔میں یہ تو پہلے بتا آیا ہوں کہ رسول کریم ﷺ بے نظیر بہادر تھے اور کو ئی شخص بہادری میں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔اب میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ آپؐ لڑا ئی اور جھگڑے سے سخت متنفر تھے جس سے معلوم ہو تا ہے کہ نہ تو عام طور پر لڑا ئی اور جھگڑا دیکھتے دیکھتے آپؐ کے اندر بہادری کی صفت پیدا ہو گئی تھی اور نہ ایسا تھا کہ جنگوں اور لڑا ئیوں کے باعث طبیعت میں ایسی سختی پیدا ہو گئی تھی کہ جھگڑے اور فساد کو طبیعت پسند کرنے لگے اور ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دونوں با تیں اکثر ایک دوسرے کے باعث سے پیداہو جا تی ہیں۔کئی بہادر ایسے ہو تے ہیں کہ ان کی بہادری ان کی جھگڑالو اور فسادی طبیعت کا نتیجہ ہو تی ہے اور کئی بہادر ایسے ہو تےہیں کہ ان کی بہادری ان کو لڑا ئی اور جھگڑے کا عادی بنا دیتی ہے لیکن آپؐ کی زندگی کے حالات بتاتے ہیں کہ آپ ؐ بہادر تھے لیکن آپؐ کی بہادری ایک نیک خلق کے طور پر تھی اور با وجود بہادر اور میدانِ کا رزار میں ثابت قدم رہنے والا ہو نے کے آپؐ کو کسی سے جھگڑتے نہیں دیکھا۔ہر ایک معاملہ کو سہولت سےطے کر تے اور اگر کسی کو لڑتا دیکھتے بھی تو اس حرکت سے