انوارالعلوم (جلد 1) — Page 614
اسے روک دیتے چنانچہ آپؐ کی اس نفرت کا یہ اثر تھا کہ صحابہؓ جنہیں رسول کریم ﷺ کے آخری زمانہ میں جنگ و جدل کے سا تھ ہی واسطہ پڑا رہتا تھا کبھی آپس میں لڑتے جھگڑتے نہ تھے اور ان کی طبیعت میں سختی اور درشتی پید انہیںہوئی تھی کیونکہ ہر ایک ایسے واقعہ پر رسول کریم ﷺ ان کو روک دیتے تھے۔برخلاف اس کے ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر میدان جنگ کے بہادر مختلف لڑا ئیو ں اور جھگڑوں سے بجا ئے گھبرا نے کے ان میں مزا حاصل کر تے ہیں اور کئی لوگ تو خود لڑا ئی کرا کے تماشہ دیکھتے ہیں مگر رسول کریم ﷺعمر بھر باوجود بے نظیر بہادری کے لڑائیوں اور جھگڑوں سے سخت نفرت کر تے رہے جس سے ثابت ہو تا ہے کہ آپؐ کے اندر ایک اَور ہی رو ح تھی جو کام کر رہی تھی اور آپؐ اس دنیا کے لوگوں سے تعلق نہ رکھتے تھے بلکہ آپؐ آسمانی انسان تھے جس کا ہر کام آسما نی تھا۔رسول کریم ﷺکی تمام زندگی ہی اس بات پر شاہد ہے کہ آپؐ لڑا ئی جھگڑے کو سخت ناپسند فر ما تے تھے لیکن ا س جگہ میں ایک دو مثالیں بھی دیتا ہوں جن سے آ پؐ کے پا کیزہ نفس کا پتہ چلتا ہے۔عبادہ بن الصامت رضی اللہ عنہٗ روایت کرتے ہیں: خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِیُخْبِرَ نَا بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحٰی رَجُلَانِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ،فَقَالَ: خَرَجْتُ لِاُ خْبِرَکُمْ بِلَیْلَۃِ الْقَدْرِ، فَتَلَاحٰی فُلَانٌ وَفُلانٌ فَرُفِعَتْ، وَعَسٰی اَنْ یَّکُوْنَ خَیْرًا لَّکُمْ، فَالْتَمِسُوْ ھَافِی التَّاسِعَۃِ وَالسَّابِعَۃِ وَالْخَامِسَۃِ(بخاری کتاب الصوم باب رفع معرفۃ الیلۃ القدر لتلا حی الناس) یعنی رسول کریم ﷺ ایک دفعہ اپنے گھر سے لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے نکلے۔اتنے میں دو شخص مسلمانوں میں سے لڑ پڑے(یعنی جب آپ ؐ نکلے تو دو شخصوں کو لڑتے پا یا) اس پر آپؐ نے فر ما یا کہ میں لیلۃ القدر کی خبر دینے کے لیے نکلا تھا لیکن فلا ں فلاں شخص لڑ رہے تھے جسے دیکھ کر مجھے بھول گیا کہ وہ رات کب ہو گی۔خیر شاید یہ بھی تمہارے لیے اچھا ہو۔تم اسے انتیسویں، ستا ئیسویں اور پچیسویں را ت میں تلا ش کرو۔طہارۃ النّفس۔تکبّر سے اجتنابایک مثال تو آپؐ کے تکبر سے بچنے کی میں پہلے دے چکا ہوں ایک اور دیتا ہوں اور انہی دونوں مثالوں پر کیا حصرہے آنحضرت ﷺ کا ایک ایک عمل اس بات کی رو شن مثال ہے کہ آپؐ تکبر سے کو سوں دور تھے لیکن جیساکہ میں ابتدا میںلکھ آیا ہوں اس سیرت میںمیَں نے صرف اس حصہ سیرت پر رو شنی ڈالنی ہے جو اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ بخاری سے ہمیں معلوم ہو تا ہے اور دوسرے