انوارالعلوم (جلد 1) — Page 612
واقع ہے۔کھانے پینے کی سخت تکلیف ہو نے لگی اور سوائے اس کے کہ کو ئی خدا کا بندہ چوری چھپے کوئی چیز دے جا ئے ان لو گوں کو ضروریات زندگی بھی میسر آنی مشکل ہو گئیں۔اور قریباً دو سال تک یہی معاملہ رہا۔اور بعض مؤرخ تو لکھتے ہیں کہ تین سال تک یہی حال رہا جب حالت انتہا کو پہنچ گئی تو قریش میں سے پا نچ شخص اس بات پر آمادہ ہو ئے کہ اس ظلم کو دور کیا جائے اور ان قیدیوں کو رہائی دلا ئی جا ئے۔چنانچہ انہوں نے آپس میں مشورہ کرکے ایک دن عین کعبہ کے پاس کھڑے ہو کر یہ اعلان کر دیا کہ اب ہم اس ظلم کو زیا دہ نہیں دیکھ سکتے یہ نہیں ہو سکتا کہ ہم لوگ تو پیٹ بھر کر کھانا کھا ئیں اور آرام سے زندگی بسر کیں۔مگر چند ہمارے ہی ہم قوم اس طرح ہماری آنکھوں کے سامنے کھانے پینے سے تنگ ہوں اور باوجود قیمت دینے کے غلہ ان کے ہا تھ فروخت نہ کیا جائے۔ہم اس معاہدہ کی جو ایسے ظلم کو روا رکھتا ہے پابندی نہیں کرسکتے۔ان کا یہ کہنا تھا کہ بہت سے لوگ جن کے دل انصاف سے کو رے نہ تھے۔ان کی تا ئید میں کھڑے ہو گئے اور آخر و ہ معاہدہ پھاڑ کر پھینک دیا گیا۔اور آنحضرت ﷺ اور آپؐ کے قبیلہ کے لوگ اس قید سے آزاد ہو ئے۔مطعم بن عدی بھی ان پا نچ اشخاص میں سے ایک تھا اور یہی تھا کہ جس نے بڑھ کر اس معاہدہ کو پھاڑ کر پھینک دیا۔علاوہ ازیں جب آنحضرت ﷺ طائف کے لوگوں کو دعوت اسلام دینے کے لیے تشریف لے گئے۔اور آپؐ سے وہاں کے بدمعاشوں نے سخت ظلم کا سلوک کیا اور آپؐ کے پیچھےلڑکے اور کتے لگا دیے تو آپؐ کو واپس مکہ میں آنا پڑا لیکن یہ وہ وقت تھا کہ مکہ کے لوگ بھی سخت سے سخت شرارت پر آمادہ ہو رہے تھے۔اور آپؐ کو وہاں بھی امن ملنا مشکل تھااس وقت مطعم بن عدی نے آگےآکر آپؐ کو اپنے جوار میں لیا اور اپنی ذمہ داری پر آپؐ کو پناہ د ی۔یہ وہ احسانات تھےجو مطعم بن عدی نے آپؐ پر کیے تھے۔اور جبیرؓ بن مطعم سے آپ کا مذکورہ بالا کلام ظاہر کر تا ہے کہ آ پ ؐکو ہمیشہ خیال رہتا تھا کہ کاش وہ زندہ ہو تا۔اور میں اس کے احسانات کا بدلہ اتارتا۔چونکہ مطعم نے آپؐ کو اور آپؐ کے قبیلہ کو اس قید سے آزاد کرانے میں بہت کو شش کی تھی جس میں آپؐ بوجہ قریش کے غیر منصفا نہ معاہدہ کے گرفتار تھے۔اور پھر اس وقت جبکہ آپؐ کے دشمن آپؐ کو قسم قسم کی تکلیف پہنچانے پرآمادہ تھے آپؐ کو پناہ دی تھی۔آپؐ کی توجہ بدر کے قیدیوں کو دیکھ کر اور یہ خیال کرکےکہ وہ لوگ جو چند سال پہلے مجھے اپنے ہاتھ میں خیال کر تے تھے