انوارالعلوم (جلد 1) — Page 536
انوار العلوم جلدا ۵۳۶ سيرة النبي جرأت بہادروں کا بہادر ان سب عیوب سے پاک تھا۔ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ بَارِكْ وَسَلَّمْ۔ انسان کی اعلیٰ درجہ کی خصال میں سے ایک جرات بھی ہے ۔ جرأت کے بغیر انسان بہت سے نیک کاموں سے محروم رہ جاتا ہے۔ جرا جاتا ہے۔ جرات کے بغیر انسان دنیا میں ترقی نہیں کر سکتا۔ جرات کے بغیر انسان اپنے ہم عصروں کی نظروں میں ذلیل و سبک رہتا ہے۔ غرض کہ جرات ، بہادری، دلیری اعلیٰ درجہ کی صفات میں سے ہیں اور جس انسان میں یہ خصلتیں ہوں وہ دوسروں کی نظر میں ذلیل نہیں ہو سکتا۔ جب کہ آنحضرت ا جامع کمالات انسانی تھے اور ہر ایک بات میں جو انسان کی زندگی کو بلند اور اعلیٰ کرنے والی ہو دوسرے کے لئے نمونہ اور اسوہ حسنہ تھے اور جو عمل یا قول یا خوبی یا نیکی سے تعبیر کیا جا سکے اس کے آپ معلم تھے اور کل پاک جذبات کو ابھارنے کے لئے ان کا وجود خضر راہ تھا تو ضروری تھا کہ آپ اس صفت میں بھی خاتم الانبیاء والاولیاء بلکہ خاتم الناس ہوں اور کوئی انسان اس حسن میں آپ پر فائق نہ ہو سکے چنانچہ آپ کی زندگی پر غور کرنے والے معلوم کر سکتے ہیں کہ آپ نے اپنی عمر میں بہادری اور جرأت کے وہ اعلیٰ درجہ کے نمونے دکھاتے ہیں کہ دنیا میں ان کی نظیر نہیں مل سکتی بلکہ تاریخیں بھی ان کی مثال پیش کرنے سے عاجز ہیں لیکن چونکہ میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ موجودہ صورت میں میں صرف وہ واقعات جو بخاری میں درج ہیں پیش کروں گا اس لئے اس جگہ صرف ایک دو واقعات پر کفایت کرتا ہوں۔ در اصل اگر غور کیا جائے تو آنحضرت ا کی مکہ کی زندگی ہی بہادری کا ایک ایسا اعلیٰ نمونہ ہے کہ اسے دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ تیرہ سال تک ایک ایسے مقام پر رہنا کہ جہاں سوائے چند انفاس کے اور سب لوگ دشمن اور خون کے پیاسے ہیں اور بغیر خوف کے لوگوں کو اپنے دین کی باتیں سنانا اور پھر ایسے دین کی جو لوگوں کی نظر میں نہایت حقیر اور مکروہ تھا۔ کوئی ایسا کام نہیں جس کے معلوم ہونے پر آپ کے کمالات کا نقشہ آنکھوں تلے نہ کھینچ جاتا ہو ۔ اس تیرہ سال کے عرصہ میں کیسے کیسے دشمنوں کا آپ کو مقابلہ کرنا پڑا۔ انواع و اقسام کے عذابوں سے انہوں نے آپ کے قدم صدق کو ڈگمگانا چاہا لیکن آپ نے وہ بہادری کا نمونہ دکھایا کہ ہزار ہا دشمنوں کے مقابلہ میں تن تنها سینہ سپر رہے اور اپنے دشمنوں کے سامنے اپنی آنکھ نیچی نہ کی اور جو پیغام خدا کی طرف سے لے کر آئے تھے اسے کھلے الفاظ میں بغیر کسی اخفاء و اسرار - اخفاء و اسرار کے لوگوں تک پہنچاتے رہے غرض کہ آپ م کی زندگی تمام کی تمام جرأت و دلیری کا ایک بے مثل نمونہ ہے مگر جگہ کی قلت کی وجہ سے میں ایک