انوارالعلوم (جلد 1) — Page 27
کیونکہ وہ جتناخد اکے قریب جاتے ہیں اتنا ہی ان کے دل میں اس کے پاس جانے کا اور اشتیاق بڑھتا ہے۔اور ور جو کچھ کہ فاصله بیچ میں ہوتا ہے اس کو ایک گناه تصور کرتے ہیں اور خدا سے التجا کرتے ہیں کہ ہم کو اور بھی اپنے نزدیک کرلے۔غرض کہ یہ محبت ایک ایسی زبردست طاقت ہے کہ یہ ایک طاقتور اور کمزور انسان پر یکساں حکومت کرتی ہے۔محبت کے کمال کا نام دنیا میں استقلال رکھا گیا ہے۔بعض لوگوں میں محبت کی قوت بہت کم ہوتی ہے انہی لوگوں کا نام بالفاظ دیگر کم ہمت اور بے استقلال ہے۔کیونکہ جب انسان کو کسی چیز کی خواہش ہی بدرجہ کمال نہ ہوگی تو کس طرح ایک عرصہ دراز تک اس کے حاصل کرنے کے لئے سرگرداں و پریشان رہ سکتا ہے۔مگر جب ایک شخص کو کسی چیز سے بہت ہی انس ہو گا اور وہ چاہے گا کہ کسی طرح میں اس کو حاصل کر ہی لوں۔اس وقت وہ ہر قسم کی تکالیف اور مصائب اور شدائد کو برداشت کرلے گا۔اور ہر طرح سے آخر اس کو حاصل کر ہی لے گا جیسا کہ کسی نے کہا ہے من جد وجد ورنہ کم سے کم وہ۰ دنیا پر ثابت کر دے گا کہ میں ایسا شخص نہیں ہوں کہ کم توجہی سے کسی کام کو ناتمام چھوڑ دوں بلکہ جب تک میرے ہاتھ پاؤں چلیں اور جب تک دنیاوی وسائل میرا ہاتھ بٹا سکیں۔میں ہر ایک اس کام کو جس کے کرنے کا ارادہ کر لوں کمال تک پہنچانے کی کو شش کر تا ہوں۔یہ ہیں محبت کی طاقتیں اور قوتیں جن سے وہ دنیا میں کام لیتا ہے۔یہ جب جوش زن ہوتی ہے تو اس وقت انسان کی حالت ناگفتہ بہ ہوتی ہے اس کے ہوش و حواس سب ہوا ہو جاتے ہیں اور بے چینی اور بے کلی اس وقت اس کی جلیس ہوتی ہیں وہ اپنے دل میں ایسا درد محسوس کرتا ہے کہ سوائے چند گرم آنسوؤں کے جو کہ اس کی گھبراہٹ کا کچھ تھوڑا سا حال بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور کوئی نہیں ہوتا جو اس کی حالت کا اظہار کر سکے۔بلکہ خود اس کی طاقت گویائی بھی کچھ کام نہیں دیتی۔اور وہ جس کی زبان کبھی تالو سے نہ لگتی تھی۔کلیجہ تھامے ہوئے بیٹھا ہوا نظر آتا ہے۔یہ حالت اس قابل ہوتی ہے کہ اس کا مشاہدہ کیا جائے۔لیکن یہ تو تب ہو اگر دوسروں کو ایسا واقعہ پیش نہ آتا ہو بچپن سے لے کر بڑھاپے تک۔بلکہ قبر کے کونے تک یہی واقعات پیش آتے ہیں۔ایک دودھ پیتابچہ تک بھی اپنی ماں کی گود میں اور ایک اجنبی کی گود میں فرق محسوس کرتا ہے اور دوسرے کے ہاتھوں میں جا کر خواہ مخواہ رو پڑتا ہے یا بیکل ہو جاتا ہے۔حالانکہ وہ اس وقت اپنے پرائے میں کچھ تمیز نہیں کر سکتا اور اس کو نہیں معلوم ہوتا کہ کون میرا دوست ہے اور کون میرا دشمن ہے وہ صرف اس محبت کے تعلق کی وجہ سے جو اس کو اپنی والدہ سے ہوتی ہے غیر میں اور اپنی ماں میں ایک فرق محسوس کرتا ہے۔جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔کہ دل را بہ دل رہیست۔یعنی اگرچہ ایک کو دوسرے کی محبت کا