انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 26 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 26

لئے پسند کرتا ہے کہ اس کی شکل بھا گئی ہے اوراس میں کوئی چیز ایسی ہے یا خصوصیت ہے جو اس کی آنکھوں کو پسند آگئی ہے اور حسن سیرت اس طرح کہ کسی کے اچھے اخلاق اور عمده بر تاؤ سے ایک شخص کا دل اس طرف مائل ہو جاتا ہے اور ایسی محبت اس کے دل میں پیدا کر دیتا ہے کہ وہ محبت کرنے والا شخص اس دوسرے شخص کی جگہ اپنے دل میں خاص طور سے پاتا ہے۔اور حسن انجام اس طرح کہ ایک شخص کسی کام کے شروع کرنے سے پہلےسوچتا ہے اور غور کر تا ہے کہ اس کا انجام کیا ہو گا جب وہ اس کے انجام کو اچھا اور سود مند دیکھتاہےتو وہ ہر طرح سے اس کام کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے یہ تین قسم کی محبتیں ہیں جو میرے خیال میں طرح طرح کی شکلوں میں انسان کی زندگی میں پیش آتی ہیں۔بعض دفعہ انسان ایک چیز سے محبت کرتا ہے اور نہیں جانتا کہ مجھ کو اس سے کیوں محبت ہے اگر چہ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے لیکن اس شخص کی نظروں سے پوشیده - دیکھا جا تا ہے کہ ایک آدمی مدت تک ایک جگہ رہتا اور پھر جب وہ کسی وجہ سے اس جگہ کو چھوڑتا ہے تو اس کے دل میں ایک قسم کا قلق اور گھبراہٹ پائی جاتی ہے۔حالانکہ وہ جتنی مدت تک اس جگہ رہا کبھی بھی اس جگہ کی محبت اس کے دل |میں جوش زن نہیں ہوئی۔اسی طرح دو بچپن کے دوست جو ایک جگہ رہتے رہے ہیں اور جنہوں نےایک ہی جگہ تعلیم پائی ہے۔شاید بہت کم ایسے موقعہ پاتے ہوں گے کہ انہیں ایک دوسرے کی محبت محسوس ہو لیکن جدائی اچانک آکر اس محبت کو شعلہ زن کر دیتی ہے جو ان کے دلوں میں مدت سے خفیہ طور پر بڑھ رہی تھی اس وقت وہ جانتے ہیں اور ان کے دل اچھی طرح محسوس کر لیتے ہیں کہ ہاں ہمیں آپس میں محبت تھی اس بات سے معلوم ہو تا ہے کہ محبت اس آگ کی طرح ہے جو آہستہ آہستہ دہکتی رہتی ہے اور جب اس کو کسی چیز سے ہلایا جاتا ہے تو وہ اچانک شعلہ زن ہوتی ہے۔میرے خیال میں استغفار پڑھنے کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ محبت الہی کی آگ کو بھڑکایا جائےکیونکہ انسان استغفار پڑھنے کے وقت اپنے گناہوں کو اپنے سامنے دیکھتا ہے اور جانتا ہے کہ اگر یہی حالت رہی تو یہ گناه مجھ میں اور میرے پیارے میں جدائی ڈالیں گے۔اور آخر کار میں خدا تعالیٰ سےدور جا پڑوں گا جس سے میں محبت کرتا ہوں اور شیطان کے نزدیک ہو جاؤں گا۔جس سے میں نفرت کرتا ہوں۔پس اس جدائی کو سامنے دیکھ کروہ کانپ اٹھتا ہے اور خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں اور بھی جوش زن ہوتی ہے۔اور اس طرح وہ ان گناہوں کو یک لخت ترک کر دیتا ہے جن کی وہ واقفیت حاصل کرلیتا ہے اور ان بندوں کے لئے جو آخر کار گناہوں کے پھندے سے نکل جاتے ہیں استغفار ایک ترقی کا موجب ہوتا ہے۔