انوارالعلوم (جلد 1) — Page 28
علم بھی نہ ہو تو بھی وہ محبت کی کشش کے وہ اس کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے، اسی طرح جب بچہ ذرا بڑا ہو جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ محبت کے اثر سے محفوظ نہیں ہو تا۔کیونکہ وہ اپنے ہم عمر بچوں سےمحبت کا تعلق رکھتا ہے اور جب وہ کچھ اور بڑا ہوتا ہے۔یعنی بلوغت کے قریب پہنچتا ہے تو اس وقت سے دو سراسلسلہ محبت کا شروع ہو جا تا ہے لیکن اس کو کسی قدر عقل آجاتی ہے کہ محبت کرنے کےلائق ایک اور ہستی ہے جو کہ زمین و آسمان کی پیداکرنے والی اور برے بھلے کی فرق کرنے والی ہے۔پس اس وقت اگر وہ اپنی اصلاح کرتا اور صاف اور سیدھی راہ پر چلتا ہے تو آئندہ زندگی میں اس کے لئے بہت ہی آسانیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور وہ راو جو بہتوں کو بہت دشوار اور ناقابل گزر معلوم ہوتا ہے اس کے لئے ایک عمدہ آسان اور بلا خوف و خطر ہو جا تا ہے۔پھر اسی طرح انسان جوان ہو کربھی بہت سے تعلقات رکھتا ہے اور اس کو محبت کرنی پڑتی ہے۔اور جب وہ بوڑھا ہو تا ہے تو تعلقات اور بھی زیادہ ہو جاتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ محبت بھی ترقی کر جاتی ہے۔اور پھر بوجہ ایک لمبی عمرپانے کے بوڑھا آدمی اپنے کئی دوستوں کو چھوڑ چکا ہو تا ہے اور وہ اس سے پہلے اس دنیائے فانی کو الوداع کہہ چکے ہوتے ہیں اور خواہ مخواہ اس کو وہ زمانہ جبکہ یہ اپنے دوستوں میں بیٹھا تھا یاد آتا ہے اور محبت اس کو بیقرار کرتی ہے اور نہیں تو اپنی چھوٹی عمر کی باتیں یاد آکر اس کی خدا سے محبت اور بڑھ جاتی ہے۔کیونکہ وہ اپنے گناہوں سے ڈرتا اور پچھتاتا ہے اور اگر دوستوں کی جدائی کاداغ بھی رکھتا ہو اور کچھ صلاحیت بھی رکھتا ہو تو بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے سبحان الله یعنی سب کے لئے فنامقدر ہے اور تکلیفیں آرام کے ساتھ ضروری ہیں۔لیکن صرف ہاں صرف ایک الله تعالیٰ ہے جو ان تمام انقلابات اور فنا سے پاک ہے یا بے اختیاری میں وہ یہ کلمہ زبان پر لاتا ہے کہ انا لله وإنا إليه راجعون (البقره: ۱۵)یہ فقرہ جو کسی غم کے وقت بولا جاتا ہے میرے خیال میں اس کے معنوں میں بھی محبت کی طرف ایک اشارہ ہے۔یعنی جب ایک چیز جس کو ہم پسند کرتے ہیں ٹوٹ جاتی یا گم ہوجاتی ہے یا ایک شخص ہم سے جدا ہو تا ہے خواہ دائمی خواہ ایک وقت مقررہ تک کے لئے اس وقت ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم تو خدا کے لئے ہی ہیں اور ہم نے اسی طرف لوٹنا ہے یعنی فنا سب کے لئے ہےسوائے خدا تعالیٰ کے اور ہم بھی کسی دن انہی فنا شدہ لوگوں کی طرح فنا ہو جائیں گے۔لیکن غورکرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس فقرے میں ایک محبت کا بھی اشارہ ہے، لیکن خدا تعالیٰ اپنےبندوں کو سکھلاتا ہے کہ نقصان کے وقت تم یہ پڑھا کرو اور اس میں اشارہ فرماتا ہے