انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 503 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 503

انوار العلوم جلدا ۵۰۳ سيرة النبي ڈال رہا تھا اس کا دل یقین سے پر اور سینہ ایمان سے معمور تھا۔ غرضیکہ بجائے دنیاوی اسباب پر بھروسہ کرنے کے اس کا تو کل خدا پر تھا۔ پھر بھلا ان مصائب سے وہ کب گھبرا اسکتا تھا اس نے مسیلمہ اور اس کے لشکر پر بھروسہ کرنا ایک دم کے لئے بھی مناسب نہ جانا اور صاف کہہ دیا کہ خلافت کا دھوکہ دے کر تجھے اپنے ساتھ ملانا اور تیری قوم کی اعانت حاصل کرنی تو علیحدہ امر ہے ایک کھجور کی شاخ کے بدلہ میں بھی اگر تیری حمایت حاصل کرنی پڑے تو میں اس کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھوں۔ اس غیور دل کی حالت پر غور کرو۔ اس متوکل انسان کی شان پر نظر ڈالو ۔ اس یقین سے پر دل کی کیفیت کا احساس اپنے دلوں کے اندر پیدا کر کے دیکھو کہ کسی یقین اور توکل کے ماتحت وہ مسیلمہ کو جواب دیتا ہے کیا کوئی بادشاہ ایسے اوقات میں اس جرات اور دلیری کو کام میں لا سکتا ہے کیا تاریخ کسی گوشت اور پوست سے بنے ہوئے انسان کو ایسے مواقع میں سے اس سلامتی سے نکلتا ہوا دکھا سکتی ہے اگر نہیں تو اس کی وجہ کیا ہے ؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ آپ کی زندگی سے مقابلہ کرنا ہی غلط ہے کیونکہ آپ نبی تھے اگر آپ کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے تو انبیاء سے مگر جو شان آپ کو حاصل ہے اس کی نظیر انبیاء میں بھی نہیں مل سکتی کیونکہ آپ کو سب انبیاء پر فضیلت ہے۔ اس جگہ یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیلمہ کو جواب دیتے وقت رسول کریم ال کے یہ مد نظر نہ تھا کہ آپ حکومت کے حق کو اپنی اولاد کے لئے محفوظ رکھنا چاہتے تھے کیونکہ اگر ایسا ہو تا تو آپ کا انکار توکل علی اللہ کے باعث نہیں بلکہ اپنی اولاد کی محبت کی وجہ سے قرار دیا جاتا لیکن رسول کریم نے اپنی اولاد کو اپنے بعد اپنا جانشین نہیں بنایا بلکہ حضرت ابو بکر کی خلافت کی طرف اشارہ فرمایا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا انکار کسی دنیاوی غرض کے لئے نہ تھا بلکہ ایک بے پایاں یقین کا نتیجہ تھا۔ K اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ مسیلمہ کذاب کی مدد حاصل کرنا بظا ہر مذہبی لحاظ سے بھی مصر نہ تھا کیونکہ اگر وہ یہ شرط پیش کرتا کہ میں آپ کی اتباع اس شرط پر کرتا ہوں کہ آپ فلاں فلاں دینی باتوں میں میری مان لیں تو بھی یہ کہا جا سکتا تھا کہ اپنی بات کی بیچ کی وجہ سے آپ نے اس کے مطالبہ کا انکار کر دیا لیکن اس نے کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے معلوم ہو کہ وہ مذہب میں تبدیلی چاہتا تھا۔ پس آپ کا انکار صرف اس توکل اور یقین کا نتیجہ تھا جو آپ کو خداتعالیٰ پر تھا۔ ایک اور بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ آپ اگر چاہتے تو اس وقت مسیلمہ کو پکڑ کر مروا دیتے کیونکہ گو وہ ایک کثیر جماعت کے ساتھ آیا تھا مگر پھر بھی مدینہ میں تھا اور آپ کے ہاتھ کے نیچے