انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 502 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 502

وہی شخص پا تا ہوں جس کی نسبت مجھے وہ نظارہ دیکھا یا گیا تھا جو میں نے دیکھا اور یہ ثابت ہیں میری طرف سے تجھے جواب دیں گے پھر آپ وہاں سے چلے گئے۔حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں میں نے پوچھا کہ یہ رسول اللہ ؐنے کیا فر ما یا ہے کہ میں تو تجھے وہی شخص پاتا ہوں جس کی نسبت وہ نظارہ دکھا یا گیا تھا جو میں نے دیکھا اس پر مجھے حضرت ابو ہریرہؓ نے بتا یا کہ رسول کریمؐ نے فر ما یا تھا کہ ایک دفعہ میں سو رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے دونوں ہا تھوں میں دو کڑے ہیں جو سونے کے ہیں ان کا ہو نا مجھے کچھ نا پسند سا معلوم ہوا اس پر مجھے خواب میں وحی نازل ہو ئی کہ میں ان پر پھونکوں جب میں نے پھونکا تو وہ دونوں اڑ گئے۔پس میں نے تعبیر کی کہ دو جھوٹے ہوں گے جو میرے بعد نکلیں گے ایک تو عنسی ہے اور دوسرا مسیلمہ۔اس واقعہ سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو خدا تعالیٰ پر کیسا یقین تھا اور آپ خدا تعالیٰ کی مدد پر کیسے مطمئن تھے۔آپ کے چاروں طرف کافروں کا زور تھا جو ہر وقت آپ کو دکھ دیتے اور ایذا پہنچانے میں مشغول رہتے تھے اور جن جن ذرائع سے ممکن ہو تا آپ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔قیصر و کسریٰ بھی اپنے اپنےحکام کو آپ کے مقابلہ کے لیے احکام پراحکام بھیج رہے تھے بنی غسان لڑنے کے لیے تیاریاں کر رہے تھے ایرانی اس بڑھتی ہو ئی طاقت کو حسدو حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے اور ہر ایک حکومت اس نئی تحریک پر شک و شبہ کی نگاہیں ڈال رہی تھی۔ایسے وقت میںجب تک ایک لشکر جرار آنحضرت ؐکے ارد گرد جمع نہ ہو تا آپ کے لیے اپنے دشمنوں کی زد سے بچنا بظا ہر مشکل بلکہ ناممکن نظر آتا تھا۔مدینہ منورہ سے لے کر مکہ مکرمہ تک کی فتوحات نے آپ کو ہر ایک آس پا س کی حکومت کے مد مقابل کھڑا کر دیا تھا اور دور بیں نگا ہیں ابتداءِ امر میں ہی اس بڑھنے والی طا قت کو تباہ کر دینے کی فکر میں تھیں کیونکہ انہیں یقین تھا کہ یہ طاقت اگراور زیا دہ بڑھ گئی تو ہمارے بڑے بڑے قصور محلات کی اینٹ سے اینٹ بجا دے گی پھر آنحضرتؐ ان عظیم الشان مظاہروں کے مقابلہ کے لیے جو کچھ تیاری کر تے کم تھی۔انسانی عقل ایسی حالت میں جس طرح دوست و دشمن کو اپنے سا تھ ملانا چاہتی ہے اور جن جن تدابیر سے غیروں کو بھی اپنےاندر شامل کر نا چاہتی ہے وہ تا ریخ کے پڑھنے والوں کو آسانی سے سمجھ میں آسکتی ہیں۔لیکن وہ میرا پیارا زمینی نہیں بلکہ آسمانی تھا۔بڑھتے ہو ئے لشکر اور دوڑتے ہو ئے گھوڑے۔اٹھتے ہو ئے نیزے اور چمکتی ہو ئی تلواریں اس کی آنکھوں میں کچھ حقیقت نہیں رکھتی تھیں وہ ملا ئکہ ٔآسمانی کا نزول دیکھ رہا تھا اور زمین وآسمان کا پیدا کنندہ اس کے کان میں ہر دم تسلی آمیز کلام