انوارالعلوم (جلد 1) — Page 504
لیکن اس معاملہ میں بھی آپ نے اللہ تعالیٰ پر توکل کیا کہ وہ خود اس موزی کو ہلاک کرے گا۔اللهم صل على محممد وعلى محمد وبارك و سلم إنك حميد مجيد اخلاص باللہ – یادالٰہی خدا تعالیٰ کے ذکر پر آپ کو جوش آ جاتارسول کریم کی عادت تھی کہ بہت آرام اورخدا تعالیٰ کے ذکر پر آپ کو جوش آجا تا ہی سے کام کرتے تھے اور آپ کے کلام میں جوش نہ ہو تا تھا بلکہ بہت سہولت ہوتی تھی لیکن آپ کی یہ بھی عادت تھی کہ جہاں خدا تعالیٰ کا ذکر آنا آپ کو جوش آجا تا تھا اور آپ کی عبارت میں ایک خاص شان پیدا ہو جاتی تھی۔چنانچہ احادیث کے پر دینے سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ذکر کے آتے ہی آپ کو جوش آجا تا تھا اورآپ کے لفظ لفظ سے معلوم ہو تا تھا کہ عشق ائی کادر یا آپ کے اندر لہریں مار رہا ہے آپ کے کلام کو پڑھ کر محبت کی ای لپٹیں آتیں کہ پڑھنے والے کادماغ معطر ہو جا تا۔اللہ اللہ آپ صحابہ میں بیٹھ کر کسی پیار سے باتیں کرتے ہیں ان کی دلجوئی کرتے ہیں انکی شکایات کو سنتے ہیں۔پھر سایہ ہی کا کیاوار ہے کافر و مؤمن آپ کی بھر روئی سے فائدہ اٹھا رہا ہے اور ہر ایک تکلیف میں آپ مہربان باپ اور محبت کرنے والی ماں سے زیادہ تر رو و مهربان ثابت ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ کے معالمه میں جہاں اس کا اور غیر کا مقابلہ ہو جائے آپ بے التیار ہو جاتے ہیں محبت ایاجوش مارتی ہے کہ رنگ کی اور ہو جا تا ہے۔بسنے والے کا دل ایک ایی وابستگی پا تا ہے کہ آپ ہی کا مر یک ہو جاتاہے۔خدا تعالیٰ کی و و عظمت بیان کرتے ہیں کہ دل بے التیار اس پر قربان ہو نا چاہتاہے روایت بیان کرتے ہیں کہ بدن کانپ اٹھتا ہے وہ جلال بیان کرتے ہیں کہ جسم کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ایساخوف دلاتے ہیں کہ مومن انسان کا دل تو خوف کے مارے پھل ہی جاتا ہے پرائی شفقت ومحبت کا بیان کرتے ہیں کہ ٹوٹے ہوئے دل جڑ جاتے ہیں اور گری ہوئی ہمتیں بڑھ جاتی ہیں۔اللہ اللہ آپ کے عام کلام کا مقابلہ اگر اس کلام سے کریں کہ جس میں بندوں کو خدا تعالیٰ کی طرف متوجہ کرتے ہیں تو زمین و آسمان کا فرق معلوم دیتا ہے گویا خدا تعالیٰ کا ذکر آتے ہی آپ کا رو آں رو آں اس کی طرف جھک جاتا ہے اور ذرہ ذرہ اس کے احسانات کو یاد کرنے لگتا ہے اور زبان ان کی ترجمان ہوتی ہے۔نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم سے سنا کہ