انوارالعلوم (جلد 1) — Page 397
انوار العلوم جلدا ۳۹۷ جواب اشتهار غلام سرور کانپوری کام آپ کا کام کیونکر سمجھا جا سکتا ہے جو کہ بنی اسرائیل کے نبی ہیں ان کا کام تو یا ان کی طرف منسوب ہو گا یا حضرت موسی کی طرف۔ اب ایک خصوصیت آر بت آپ کی قبر کی تھی وہ بھی یہ برداشت نہیں کر سکے اور لاکر مسیح کو بھی آپ کی قبر میں داخل کر دیا داخل کر دیا تا کہ جب سب سے پہلے رسول کریم اللہ کی قبر کھلے تو مسیح بھی اس فضیلت میں شامل ہوں۔ کاش عام مسلمان ہی غور کرتے کہ ان کے علماء ان کو کس راہ پر چلا رہے ہیں۔ غرض یہ حدیث صریح طور سے اس حدیث کو رد کرتی ہے جو مولوی محمد یوسف صاحب نے پیش کی تھی۔ اور اول تو وہ حدیث ثابت ہی نہیں ابن جوزی کا قول ہے جس کا وہ حال ہے کہ حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ جیسے بزرگ پر فتوی دیا اور مخالفت کی اور اگر یہ فرض محال اسے حدیث کا درجہ دے بھی دیں تو اس کے وہ معنی نہیں ہو سکتے جو مولوی صاحب نے کئے ہیں ۔ کیونکہ اس طرح مسلم کی صحیح حدیث کا رد ہوتا ہے علاوہ ازیں کون مسلمان برداشت کر سکتا ہے کہ رسول اللہ کی قبر کھودی جائے یہ بات تو انسان اپنے دشمن کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا۔ قبر کھودنا تو مردہ کو اذیت دینا ہے۔ رسول اللہ ا نے تو قبر پر کھڑے ہونے اور اس پر تکیہ لگانے تک سے منع فرمایا ہے کہ مردہ کو از بیت ہوتی ہے۔ پھر مسلمان کیونکر برداشت کرتے ہیں کہ مسیح کی خاطر آپ کی قبر کھودی جاوے گی ۔ نعوذ باللہ من ذلك - للہ اس پر غور کرو! اور نبی کریم ا سید ولد آدم کی قبر کی اتنی توہین نہ کرو! ابْنُ اب ہم اس حدیث کا حوالہ دیتے ہیں جس کا ذکر حافظ روشن علی صاحب نے بوقت مباحثہ کیا تھا اور جس پر مولوی محمد یوسف صاحب نے شور مچایا تھا۔ کہ یہ حدیث ہی نہیں دیکھو کتاب بشری لكيئب بلقاء الحبيب امام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ مطبوعہ مصر صفحہ نمبر ۵ ۵۷ - أَخْرَجَ الْبَيْهَقِيُّ وَ أبِي الدُّنْيَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَبْرُرُ وَ ضَةً مِنْ رِّيَاضِ الْجَنَّةِ أَوْ حُفَرَةٌ مِنْ حُفْرِ النَّارِ یعنی بہقی نے اور ابن ابی الدنیا دونوں نے حضرت ابن عمر سے اپنی کتابوں میں روایت کی تھی کہ فرمایا رسول اللہ ا نے کہ قبر جنت کے جمنوں میں سے ایک چمن ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے ۔ اب اس حدیث سے قبر کے معنی جنت کے چمن بھی ہو گئے ۔ پس خود رسول اللہ ا کے قول سے ابن جوزی کی حدیث کے معنی ہو گئے کہ حضرت مسیح موعود رسول اللہ الل کے ساتھ جنت میں داخل کئے جاریں گے۔ کیونکہ خادم آقا کے ساتھ اکٹھا ہی رکھا جاتا ہے ۔ اسی طرح ابن مندہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ سے یہ حدیث روایت کی تھی کہ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ