انوارالعلوم (جلد 1) — Page 379
انوار العلوم جلدا ۳۷۹ مدارج تقوی شکر کا سجدہ بجالاتا ہے ۔ صابر گئی ہوئی چیز کی طرف خیال رکھتا ہے اور صرف اسی کے متعلق اپنا صبر ظاہر کرتا ہے ۔ مگر شاکر کہتا ہے جو اب میرے پاس ہے وہ بھی تو میرا حق نہیں۔ شاکر بھی انا للہ پڑھتا ہے۔ مگر وہ اس کے اور معنی لے لیتا ہے یعنی وہ صرف یہ نہیں کہتا کہ جہاں وہ چیز گئی ہے میں بھی وہاں جانے والا ہوں۔ بلکہ وہ کہتا ہے کہ جو چیزیں میرے پاس موجود ہیں یہ سب بھی تو خدا ہی کی ہیں۔ تقویٰ ایک پہاڑی ہے۔ ایک شخص وہ ہے جو اس پر چڑھتے ہوئے آنے والی مصیبتوں بلاؤں شیروں چیتوں بھیڑیوں کا مقابلہ کرتا ہے اور پیچھے نہیں ہوتا۔ اسے صابر کہیں گے ۔ اور ایک وہ جو نہ صرف ان کا مقابلہ کرتا ہے بلکہ ہر مصیبت پر ایک قدم آگے بڑھتا ہے ۔ یہ شاکر ہے ۔ شاکر کے مال کا جب کوئی نقصان ہوتا ہے تو اسے ضائع شدہ کی فکر نہیں ہوتی بلکہ موجود پر شکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ بھی میرا حق نہ تھا محض خدا کا فضل ہے اور اس طرح پر وہ محبت اللہی میں بڑھ جاتا ہے ۔ صابر نماز پڑھتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ایک حکم تھا جو میں نے ادا کر دیا ۔ مگر شاکر نماز کے بعد پھر سجدے میں گر جاتا ہے کہ میرے مولی تیرا احسان تیرا فضل تیرا انعام ہے کہ تو نے مجھے توفیق دی کہ میں تیری عبادت بجالایا ۔ صابر تو صرف صدقہ دیتا ہے۔ اور شاکر کہتا ہے کہ شکر ہے کہ میرے مولی نے مجھ سے خدمت لی۔ صابر فرض کے ادا کرنے کو اپنا کمال سمجھتا ہے شاکر شکر کرتا ہے کہ کروڑوں ہیں جو تیری درگاہ سے دور ہیں۔ تیرا فضل ہوا کہ میں حکم بجالانے کے قابل ہوا۔ صابر کسی نقصان جان پر سمجھتا ہے کہ خدا کی چیز تھی اس نے لے لی۔ شاکر کہتا ہے کہ الہی لاکھوں ہیں جن کے بیوی نہیں ، بچہ نہیں ، بھائی نہیں، بہن نہیں اور مجھے اور مجھے تو نے یہ سب کچھ بخشا ہے۔ تیرے احسانوں کا کہاں تک شکر ادا کروں۔ پس وہ کسی مصیبت کے وقت کسی جان ومال کے نقصان کے وقت اور بھی آستانہ الوہیت پر گرتا اور اپنے مولی کے احسانوں پر فدا ہوتا ہے۔ دو دو مثالیں صابر اور شاکر کے فرق کو ظاہر کرنے کے لئے سناتا ہوں ۔ ہوں۔ ایک تو اسلام سے دو مثالیں پہلے کا قصہ ہے جو مثنوی میںلکھا ہے۔ واللہ اعلم بالتواب۔ مولانا روم کا معمول ہے کہ حق سکھانے کے لئے کوئی نہ کوئی تمثیل ضرور پیش کر دیتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں حضرت لقمان ایک شخص کے ملازم تھے ۔ آقا بوجہ ان کی مخلصانہ خدمات کے ان سے بہت پیار کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس کے پاس خربوزہ آیا جو بے بہار کا تھا۔ اس نے عجوبہ چیز سمجھ کر ایک پھانک از راہ محبت لقمان کو دی۔ آپ نے اسے چٹخارے لے لے کر کھانا شروع کیا حالانکہ دراصل وہ خربوزہ بہت تلخ اور بدمزہ تھا۔ آقا نے اپنے وفادار مخلص غلام کو چٹخارے لیتے دیکھ کر ایک پھانک اور دی جو آپ نے