انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 378 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 378

روکے رکھے اور اگر وو اپنی حکمت سے اس کا کوئی بیٹامار دے تو جزع و فزع نہ کرے۔ایسے متقی کےبارے میں اللہ تعالیٰ فره تا ہے۔وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَ الْجُوْ عِ وَ نَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَ الْاَنْفُسِ وَ الثَّمَرٰتِؕ-وَ بَشِّرِ الصّٰبِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۙ-قَالُوْۤا اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ(البقره۱۵۶،۱۵۷) یعنی ہم تم کو آزمائیں گے کچھ ڈرائیں گے۔کچھ بھو کار کھیں گے پھر مال کا نقصان ہو گا۔پھر جان کا نقصان ،پھر پیداوار کا نقصان، جوان ابتلاؤں میں ثابت قدم رہے گا۔تو اسے بشارت ہو کہ وہ صابر کا درجہ پاگیا۔کیونکہ جب اس پر کوئی مصیبت آئی مثلاً بیٹا مرگیا تو اس نے کہا کہ میرا کیا تھا یہ تو خداہی کا تھا اس نے اپنے پاس بلا لیا میں کیوں گھبراؤں۔میں بھی تو اسی کا ہوں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانے والا ہوں (یہ صابر متقی کے نقطہ خیال سے اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ کے معنے ہیں) گھبراہٹ تو تب ہوتی کہ کوئی چیز کھوئی جاتی۔جب انسان تھے کہ میں بھی وہیں جا رہا ہوں جہاں وہ بلا لیا گیا تو کیوں گھبراؤں اور کیوں جزع فزع کروں۔دیکھو کسی قادیان آنے والے کا اسباب ہو۔اور وہ بٹالہ کے سٹیشن پر چھکڑے پر رکھ دیا جائے۔اور اس سے پہلے روانہ کردیا جائے تو وہ مہان بہت بیوقوف ہو گا۔اگر جزع و فزع شروع کر دے کیونکہ آخر اسے بھی وہیں جانا ہے جہاں وہ اسباب پہنچے گا۔صبر کے دوسرے معنی اس آیت سے حل ہوتے ہیں جو یہودیوں کے بارے میں ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰؑ سے عرض کیایا موسیٰ لن نصبر على طعام واحد (البقره:۶۲) - دیکھئے انہوں نے خدا کے دیئے پر قناعت نہ کی۔یہ خلاف صبر کیا۔پھر صبر نام ہے بدیوں سے بچنے اور عمل صالح پر قائم رہنے کا یہ معنے سورة العصرسے حل ہوتے ہیں۔جہاں الا الذين أمنوا و عملوا الصلحت( العصر۴ ) کے مقابلے میں و تواصوا بالحق وتواصوا بالصبر (العصر۴ )ر کھا گیا ہے جس میں حق ایمان کے مقابلہ میں رکھا گیا ہے۔اور صبر وعملوا الصلحت کے مقابلہ میں۔پس صبر کے معنی قرآن شریف نے بھی عمل صالح کے کئے ہیں۔شاکر متقیدوسرا درجہ تقویٰ کا شکر ہے۔اس درجے کا متقی شاکر کہلاتا ہے۔قرآن شریف میںصبار شکور آیا ہے۔شاکر اور صابر میں یہ فرق ہے کہ اگر انسان پر جب دکھ آتا ہے تو وہ صابر کی طرح صرف اتنا ہی نہیں کہتا کہ خدا کا مال تھا اس نے لے لیا۔بلکہ وہ ایک قدم اورآگئے بڑھا تا ہے اور کہتا ہے کہ کچھ گھبرانے کی بات نہیں ایک چیزاس نے لے لی ہے تو کیا ہوا فلاں فلاں نعمت بھی تو اسی کی دی ہوئی ہے، میرا کیا حق تھا کہ وہ یہ نعمتیں مجھے دیتا۔پس اس کی جناب میں