انوارالعلوم (جلد 1) — Page 380
بڑے مزے سے کھائی۔یہ حالت دیکھ کر آقا کو شوق ہوا کہ میں بھی خربوزہ کھاؤں۔کیونکہ بڑا مزیدارمعلوم ہوتا ہے۔جب اس نے چکھا تو معلوم ہؤاسخت کڑوا اور بد مزہ ہے۔اس نے حضرت لقمان سےپوچھا کہ یہ خربوزہ تو سخت کڑواہے۔آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں۔میں اس خیال سے کہ آپ کوپسند ہے بار بار پھانکیں دیتا رہا۔حضرت لقمان نے جواب دیا کہ اتنی مدت آپ کے ہاتھ سے میٹھی اورخوشگوار چیزیں کھاتا رہا ہوں۔میں بڑا ہی ناشکر گزار ہو تاکہ جس ہاتھ سے اس قدر میٹھی چیزیں کھائیں اس سے ایک کڑوی ملنے پر ناک بھوں چڑھاتا۔پس اسی طرح شاکر متّقی کہتا ہے اللہ کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں اگر ایک مصیبت بھی آگئی تو کیا ہوا یہ بھی شکر کا مقام ہے۔گویا شاکر کو تکلیف کے وقت اللہ کے احسان یاد آنے لگتے ہیں۔دوسرا قصہ نبی کریم ﷺکے وقت کا ہے۔احد کی لڑائی میں یہ خبر اڑ گئی کہ حضرت نبی کریم ﷺ شہید ہو گئے۔میدان جنگ میں تو اس غلط فہمی کی تردید ہو گئی لیکن دوسرے لوگوں میں یہ خبرا بھی پھیل رہی تھی۔جب لشکر اسلام واپس لوٹا تو ایک صحابیہؓ دیوانہ وار بڑھی اور پوچھا کہ رسول اللہ ﷺکا کیا حال ہے؟ جس شخص سے سوال کیا وہ چو نکہ جانتا تھا کہ آپ بفضل الہٰی بخیریت ہیں اس لئے اسے کچھ فکر نہ تھی اس نے اس سوال کی طرف توجہ نہ کی اور جواب میں اس عورت سے کہا کہ تمہارا خاوند مارا گیا۔مگر وہ نبی ﷺکی محبت میں متوالی ہو رہی تھی۔اس نے پھر یہ سوال کیا۔رسول اللہﷺ کا کیا حال ہے؟ - جواب ملا۔تیرا باپ مارا گیا۔اس نے کہا مجھے بتاؤ کہ رسول الله ﷺ تو بخیر و عافیت ہیں؟ جواب ملا تیرا بھائی بھی مارا گیا۔اس پر پھر وہ بولی کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کا حال بتاؤ - جواب دینے والے نے کہا کہ وہ ہر طرح سلامت ہیں۔مگر اسے اس پر بھی تسلی نہ ہوئی اور اس نے کہا مجھے دکھاؤ وہ کہاں ہیں۔اتنے میں رسول اللہ اﷺبھی آگئے۔اس عورت نے کہا کہ جب تو زندہ ہے تو ہر مصیبت میرے لئے آسان ہے۔میرے دوستو یہ شاکر صحابیہؓ تھی۔دیکھو رسول اللہ ﷺکے مقابلہ میں باپ بیٹا اس کی نگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔کیا اس زمانے میں بھی کوئی ایسی مومنہ عورت ہے؟ عورت تو درکنار کوئی ایسامرد بھی تم میں موجود ہے؟ غرض شاکر وہ ہے جو فرض ادا کرنے پر پھولتا نہیں۔بلکہ وہ خدا کے حضور سجدے میں گر جاتا ہے۔چند ہ دینے والوں میں سے بعض تو ایسے ہیں جو چندہ دیکر صدر انجمن یا خلیفۃ المسیح پراحسان کرتے ہیں بعض ایسے ہیں جو کہتے ہیں فرض ادا ہو گیا۔مگر ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم پر خدا کا احسان ہے کہ اس نے ہم سے یہ خد مت کی مجھے اس زمانے کا ایک واقعہ یاد ہے کہ منی آرڈروں میں سے جو