انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 325 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 325

یہی نہیں بلکہ اس کے ایمان میں نفاق کا کوئی شائبہ نہ ہو پس جب ایسا کوئی شخص نہیں اور کسی نے ان شرائط کو پورا نہیں کیا تو ہم کس طرح ان کو الگ سمجھ لیں اور گھر بیٹھے زبانی باتوں کے دھوکے میں آجائیں۔جب ہمارے امام نے صر یح الفاظ میں لکھ دیا ہے کہ جو ہمیں کافر نہیں کہتے تم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ سمجھیں گے جب تک کہ وہ ان سے الگ ہونے کا اعلان بذریعہ اشتہارنہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفّرین کو بموجب حدیث صحیحہ کافر سمجھتے ہیں ہیں ہم کیوں کر اس شخص کی اطاعت سے نکل جائیں جس کو ہم نے سچا یقین کیا اور جس کے معجزاتہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھے اور جس کا خدا سے تعلق ہم نے مدتوں مشاہدہ کیا ہم اپنے اس سرداراور حاکم کی بات کو کیونکر رد کر دیں جس کے ہاتھ پر ہم نے اپنے آپ کو بیچ دیا اور اپنے خیالات اوراپنی خواہشات اس کے لئے قربان کردیں ایسی جرأت تو وہ شخص کر سکتا ہے کہ جس کے دل میں ایمان نہ ہو۔جو نور یقین سے کورا ہو اور جس کو خدا نے معرفت کی آنکھیں نہ دی ہوں۔اور یہ قطعاًخیال نہ کرو کہ اس قول کا پہلے قول سے کچھ اختلاف ہے اور اس میں حضرت صاحب نے پہلے کی نسبت نر می کردی ہے کیونکہ انبیاء ؑاپنے الہاموں کی سب سے زیادہ قائل اور مومن ہوتے ہیں دیکھو حضرت صاحب اپنی کتاب اربعین میں تحریر فرماتے ہیں کہ ” مجھے اپنی وی پر ایسا ہی ایمان ہےجیسا کہ توریت اور انجیل اور قرآن پر \" پس یہ خیال سخت گندو ہو گا اگر ہم یہ کہیں کہ حضرت صاحب نے اس پہلی الہامی بات کو رد کر دیا بلکہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان میں تعطبیق کریں اور بہرحال ہم کو اس عبارت کو پہلی عبارت کے ماتحت کرنا پڑے گا کیونکہ وہ الہامی ہے اور اس کے معنی بھی ہم نےنہیں خود حضرت صاحب نے کیے ہیں چنانچہ اگر کوئی شخص غور سے دیکھے تو اس جگہ حضرت صاحب نے تعلیق محال بالمحال سے کام لیا ہے کیونکہ جو شخص حضرت صاحب کے منکرین کو نام بنام کافر قرار دے گا اور باوجود حضرت صاحب کے ان دعاوی کے آپ ؑکو سچا قرار دے گا اور آپ کےالہامات اور معجزات پر یقین لائے گا اور پھر آپؑ کی بیعت نہ کرے گا۔تو ایسا شخص دو حال سے خالی ہیں۔یا تو وہ منافق ہو گیا کہ لوگوں کے ڈر سے سچ کو قبول نہیں کرتا اور یا حکم الہٰی کا صریح منکر ہوگا کیونکہ حضرت صاحب نے بیت الہام کے ذریعہ سے شروع کی ہے اور قرآن شریف میں انبیاءؑکے منکرین کو کافر کہا گیا ہے۔جس پر حق کھل گیا اور وہ بیعت نہیں کرتا وہ منافق ہےپس ایسا شخص جس پر حق کھل گیا اور اس نے حضرت کے