انوارالعلوم (جلد 1) — Page 326
راست باز ہونے کو سمجھ لیا تو پھرو ہ بیعت نہیں کرتاتواس میں یا تو نفاق کا شائبہ ہے یا کفر کا اور حضرت صاحب ؑنے یہ شرط ساتھی قرار دی ہے کہ پھرایسا شخص منافق بھی نہ ہو پس جو شخص ان شرائط پرعمل کرے گا اس کے لئے تو بیعت ضروری ہو جائے گی اور اگر بیعت نہ کرے گا تو منافقت ہو گا پس جوشخص ایسا اشتہار دے بھی دے جس میں مخالف مولویوں پر کفر کا فتویٰ دے اور پھر بھی بیعت نہ کرے تو ایسا شخص ضرور منافق ہے پس حضرت صاحب نے تو ایک محال بات پیش کر کے مخالفین پرایک حجت قائم کی ہے نہ یہ کہ ان کے لئے راستے کھولا ہے اس عبارت کو پیش کر کے ہم سے صلح چاہنے والا بعینہ اس شخص کی طرح ہے جو قرآن شریف کی آیت قل إن كان اللرحمن ولد فانا اول العبدين (الزخرف:۸۲) کو پیش کر کے ہم سے یہ چاہے کہ ہم یسوع کی عبادت کریں اور اسےخدا کا بیٹا مان لیں۔یہاں تو یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ نہ تو تم خدا کا بیٹا ثابت کر سکو گے اور نہ میں قبول کروں گا اسی طرح مذکورہ بالا عبارت میں حضرت صاحبؑ نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی ہمارے مخالفین کا نام لے لے کر تقریبا دو سو مکفّرمولویوں پر کفر کافتویٰ اشتہار کے ذریعہ شائع کرائے اور پھراس میں نفاق بھی نہ ہو تو ہم ایسےکو مؤ من مان لیں گے اور یہ بات نا ممکن ہے کہ کوئی شخص ایساکرے اور پھر باوجود بیعت نہ کرنے کے منافق بھی نہ ہو پس یہ تو ایک تعلیق محال بالمحال تھی اسے سند کے طور سےپیش کرنا تو ایک بڑی جہالت ہے۔خداکے مامور کی آواز کو نہ پہچاننااور اس لمبی تقریر کی بھی ہم کو کچھ ضرورت نہیں کیونکہ ابھی تو کوئی شخص نہیں پیش کیاگیا جس نے ان شرائط پرعمل کیا ہو پس اس کے ذریعہ صلح چاہنا اول درجہ کی نادانی ہے جس قدر لوگ متفرق طور سےاحمدیوں کے پاس آکر یا جماعتوں میں اس قسم کا اقرار کرتے ہیں وہ تو ان لوگوں کی طرح ہیں جن کی نسبت اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا -وَ اِذَا خَلَوْا اِلٰى شَیٰطِیْنِهِمْ قَالُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْۙ-اِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُوْنَ (البقرہ:۱۵) وہ اگر ہم سے صلح چا ہتے ہیں تو اپنی دنیاوی حیثیت بڑھانے کے لئے نہ کہ ان کے دلوں میں دین کی تڑپ ہے اگر واقعی ان کو خدا تعالیٰ سے کچھ محبت ہوتی اور دین کی تڑپ ہوتی اور تقویٰ کا ایک ذرہ بھی ان کے دلوں میں باقی ہو تا تو وہ کیوں کوشش سے اس شخص کے دعویٰ کو نہ سنتے جس نے تئیس برس پکار پکار کر سنایا کہ خدا نے مجھ سےکلام کیا اور مجھے دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا ہے اور میں اس کی طرف سے مأمور مقرر کیا گیا ہوں۔اس نے لیکچروں کے ذریعہ اشتہاروں اور رسالوں کے ذریعے کتابوں کے ذریعہ اپنی آمد کا اعلان کیا