انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 324

فرماتے ہیں’’ میں دیکھتا ہوں جس قدر لوگ میرے پر ایمان نہیں لاتے وہ سب کے سب ایسے ہیں کہ ان تمام لوگوں کوو ہ مؤمن جانتے ہیں جنہوں نے مجھے کافر ٹهہرایا ہے پس میں اب بھی اہل قبلہ کو کافر نہیں کہتا لیکن جن میں خود انہیں کے ہاتھ سے ان کی وجہ کفر پیدا ہوگئی ہے انہیں کیونکر مؤمن کہہ سکتا ہوں“۔(حقیقۃ الوحی صفحہ ۱۶۵ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۶۹) اب ان عبارتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت صاحب ان لوگوں کو بھی جو آپ کو کافر نہیں کہتے اور نہ ان مولویوں کو کافر کہتے ہیں جنہوں نے آپ کو کافر قرار دیا ہے۔کافر قرار دیتے ہیں کیونکہ آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ جو لوگ مجھے کافر نہیں کہتے وہ میرے مکّفر ین کو بھی کافر نہیں کہتےاور اس طرح خود انہیں کے ہاتھ سے وجہ کفر پیدا ہو گئی ہے اس طرح آپ کے کل مکفّرین کو کافر نہ کہنے کو بھی آپ نے وجہ کفر قرار دیا ہے پس جو لوگ آپ کو کافر نہیں کرتے اور ساتھ ہی غیر احمد یوں کو بھی کامل مسلمان ہی جانتے ہیں۔وہ بھی کافر ہیں اور کسی صورت میں مسلمان نہیں کہلا سکتے اورصرف یہی کافی نہیں رکھا گیا کہ وہ ان کو کافر کہیں بلکہ نام بنام ان لوگوں کے گھر کا اعلان اشتہاروں اور اخباروں کے ذریعہ سے شائع کریں جنہوں نے آپ پر کفر کا فتوی ٰدیا ہے اور جو فتوی ٰکہ ہزاروں کی تعداد میں ہندوستان میں شائع ہو چکا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کا آخری عقیدہاور وفات سے چند ہی دن پہلے مسٹر فضل حسین صاحب بیر سٹر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فرمایا \" جوہمیں کافر نہیں کہتے ہم انہیں بھی اس وقت تک ان کے ساتھ ہی سمجھیں گے ( مکفّروں کے ساتھ )جب تک کہ وہ ان سے الگ ہونے کا اشتہار بذریعہ اعلان نہ کریں اور ساتھ ہی نام بنام یہ نہ لکھیں کہ ہم ان مکفّرین کو بموجب حدیث صحیحہ کافر سمجھتے ہیں‘‘( بدر - مئی ۱۹۰۸) یاد رہے کہ یہ فقرہ اس تقریر کا آخری فقرہ ہے۔یہی دو حوالے ہیں کہ جن کو ہمارے مخالف بار بار پیش کرتے ہیں اور اصرارکرتے ہیں کہ تمہارے امام نے جب لکھ دیا ہے کہ ہم ان لوگوں کو جو ہمارے معاملہ میں خاموش ہیں کافر نہیں سمجھتے تو اب تم ہم لوگوں سے مل جاؤ لیکن ایسے لوگوں کی عقلوں پر سخت تعجب اورافسوس آتا ہے کیا انہیں اس عبارت میں یہ بات نظر نہیں آتی کہ اس میں بڑی بڑی شرائط لگائی گئی ہیں اور کیا کوئی ایسا شخص ہے جس نے ان شرائط کو پورا کر دیا ہے ہاں ہمیں اس شخص کا نام تو بتاؤجس نے بموجب حضرت صاحب کی تحریر کے دو سو مولویوں کا نام لے لے کر انہیں کافر قرار دیا ہو اور اس بات کا اقرار کیا ہو کہ حضرت صاحب کے معجزات ٹھیک نکلے اور آپؑ راست باز تھے اور