انوارالعلوم (جلد 1) — Page 95
انوار العلوم جلدا ۹۵ صادقوں کی روشنی آپ کی وفات ٹھرتی ۔ اس لئے ضروری تھا کہ آپ کی وفات لیپ ایر (یعنی جس سال میں فروری کے ۲۹ دن ہوں) میں ہوتی تاکہ پورے ۲۲۳ دن کے بعد ۲۶ / مئی کو فوت ہوں۔ پس صاف ثابت ہوتا ہے۔ کہ آپ کی وفات ۱۹۰۸ء میں ہونی چاہئے تھی جو کہ لیپ امیر ہے نہ کہ ۱۹۰۷ء میں جس میں فروری کے ۲۸ دن ہو۔ ہوتے ہیں۔ اور ہیں۔ اور ۲۲۳ دن ۲۶ / مئی تک ختم نہیں ہوتے ۔ بلکہ ۲۷ کو ختم ہوتے ہیں۔ اب غور کرنا چاہئے کہ یہ پیشگوئی کیسی کھلی اور بین ہے۔ ہاں اگر مخالف اب بھی انکار کریں تو سوائے حضرت مسیح موعود کے اس الہام کے کہ "إِنَّمَا أَشْكُوا بَنِي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ" ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں۔ ایک نبی آیا اور ان کے لئے رات اور دن غم کھا کر اس دنیا سے اٹھ گیا اور یہ لوگ اب تک اس سے انکار کرتے ہیں ۔ ہماری خدا سے یہ خواہش نہیں کہ یہ مخالف ہلاک ہوں بلکہ دل ان کے لئے درد محسوس کرتا ہے۔ اور کڑہتا ہے۔ اور ایک تڑپ ہے کہ خدا ان کو ہدایت دے اور اپنے نبی کی شناخت دے ۔ اگر چہ یہ لوگ ہم پر طعن و تشنیع کرتے ہیں۔ مگر ہم ان کے لئے دعائیں کرتے ہیں کہ اے خدائے قادر تو ہمارے دلوں کو جانتا ہے اور تجھے علم ہے کہ ہمارے دل ان گم گشتہ راہوں کے لئے کیسی تکلیف پاتے ہیں۔ پس اے عالم الغیب والشہادۃ ہمارے دکھوں اور تکلیف کو دیکھ ہم پر رحم کر اور ان غموں سے ہم کو چھڑا اور ہمارے بھائیوں کو ہدایت اور نور کا راستہ جو تیرا نبی ہمارے لئے کھول گیا ہے بتا۔ اور انہیں اس کی شناخت کی توفیق عطا کر ۔ ہاں وہ جو شرارت میں حد سے بڑھتے ہیں اور دوسروں کو بھی ہدایت کی راہ سے روکتے ہیں اور نہیں اور ٹھٹھا کرتے ہیں ان کی حالت کو دیکھ کر بے اختیار ان کی ہلاکت کی دعا نکلتی ہے۔ نہ اس لئے کہ ہمیں ان سے کچھ عداوت ہے بلکہ اس لئے کہ ان کی وجہ سے دوسرے لوگ اس چشمہ معرفت سے سیراب ہونے سے محروم نہ رہ جائیں اور شدت پیاس سے ہلاک نہ ہو جائیں جو کہ خدا تعالیٰ نے حضرت اسماعیل کی حالت کی طرح ان کی حالتوں پر رحم کھا کر اپنے نبی کے ذریعہ سے ان پر ظاہر کیا ہے۔ پھر ایک الهام ۲۸ / ستمبر ۱۸۹۴ء کا ہے جو مدت سے دنیا میں شائع ہو چکا ہے۔ اور وہ داغ ہجرت ( تذکرہ صفحہ ۷۷۲) ہے۔ اب غور کرنے والے دیکھیں کہ ہجرت ہوئی تو کیسی ہوئی۔ فوت ہوئے تو کہاں لاہور میں جہاں اس واقعہ کے ہونے کا کسی کو دہم تک نہ تھا۔ اگر چہ خدا تعالیٰ اپنی وحی میں صاف طور پر لاہور کا ذکر بھی کر چکا تھا۔ غرض اس دنیا سے ہجرت ایسے وقت میں ہوئی جب اپنے وطن و الہام ہوا کہ سے بھی دور تھے اب اس سے زیادہ سے زیادہ ہجرت کیا ہو سکتی ہے۔ پھر میں فروری ۷ ۱۹۰ء کو الہام افسوس ناک خبر آئی اور انتقال ذہن لاہور کی طرف ہوا۔ چنانچہ ایسا ہی وقوع میں آیا ۔ پھر ٢ / مارچ