انوارالعلوم (جلد 1) — Page 242
رضائے الہٰی کے حصول کا نام نجات رکھا ہے۔اور اس حد تک کل مذاہب متفق ہیں۔لیکن دوسرے قدم پر اختلاف شروع ہو تا ہے۔کیونکہ بعض مذاہب تو ایک بات پیش کر کے کہتے ہیں کہ جس کو یہ حاصل ہو جائے تو وہ خدا کی ناراضگی سے نجات پاگیا دوسرے اس کے بر خلاف کوئی اوربات پیش کر کے کہتے ہیں کہ نہیں جب تک اس درجہ کو انسان حاصل نہ کرے تب تک نجات ناممکن ہے۔پھر اس بات پر جھگڑا اٹھتا ہے کہ ایک شخص اگر گناہ کرتارہا اور ایک خاص وقت تک خدا تعالیٰ سے باغی رہا تو اب اس کی توبہ قبول کر کے نجات ملے گی یا نہیں اور اگر ملے گی تو کس طرح؟اسی طرح اور بہت سے مسائل ہیں کہ جن پر مختلف مذاہب آپس میں اختلاف رکھتے ہیں۔اس لئےمسئلہ نجات کے حل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ان تمام پہلوؤں کو مد نظر رکھ کر غور کیا جائے۔کیونکہ ہر ایک مذہب کا پیرو جب اس لفظ کو استعمال کرتا ہے تو اپنے عقائد کے ماتحت وہ اس لفظ کےایک خاص معنی اپنے دل میں رکھتا ہے۔چنانچہ جب ایک عیسائی اس لفظ کو استعمال کرے گا تو وہ اس سے یہ مرادلے گا کہ پچھلے گناہوں سے توبہ کے ذریعہ نجات نہیں ہوتی بلکہ کفاره مسیح پر ایمان لانےسے نجات ہوتی ہے۔اور ایک آریہ جب اس لفظ کو استعمال کرے گا تو اس کا مقصد یہ ہو گا کہ پچھلےگناہوں کی سزا بھگتے بغیرانسان نجات پاہی نہیں سکتا اور جب تک کہ وہ مختلف طرح کی جونوں کےچکر میں پھنس کر اپنے گناہوں کا کفارہ نہ کرے تب تک کسی قسم کی مکتی کی امید کرنی اس کا خیال خام ہے۔ایک مسیح جب نجات کا ذکر کرے گا تو وہ اس بات پر پکا ہو گا کہ گناہ گاروں کے لئے دوزخ ابدی ہے۔اور آریہ نیکیوں کے لئے مکتی کو ابدی قرار نہ دے گا۔مگر مسلمان ان دونوں کے بر خلاف خیالات رکھتا ہو گا۔پس جب نجات پر بحث کی جائے تو ان تمام پہلوؤں پر نظر رکھنی ضروری ہے۔کیونکہ بغیر اس کے نجات کا مضمون کامل نہیں ہوتا۔چنانچہ اس وجہ سے میں ارادہ رکھتا ہوں کہ انشاء اللہ اپنے مضمون میں ان تمام پہلوؤں پر بحث کروں کہ جن سے نجات کا مسئلہ پورا ہو تا ہے۔اور ہر ایک حصہ میں جمان غیر مذاہب سے اختلاف ہو اس کو بیان کروں۔اور ان کے دلائل اوراسلام کے دلا ئل کا موازنہ کر کے بتاؤں کہ سوائے اسلام کے باقی سب مذاہب کی پیش کردہ نجاتیں اپنے ایک حصہ یا دوسرے حصہ میں سقم رکھتی ہیں۔اور اس وجہ سے ناقص ہیں۔مگر چونکہ اسلام خدا کی طرف سے ہے اس لئے اسلامی نجات ہر طرح کامل اور فطرت کے مطابق ہے۔چنانچہ اس خیال کو مد نظر رکھ کر سردست میرا ارادہ ہے کہ اگر خدا تعالیٰ نے عمر صحت اور طاقت دی۔تو انشاء اللہ اس مضمون کو چھ حصوں میں لکھوں گا۔اول یہ کہ کیا اسلام میں پچھلے گناہوں