انوارالعلوم (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 243 of 718

انوارالعلوم (جلد 1) — Page 243

سے نجات ہے یا نہیں۔اگر ہے تو کس طرح؟ دوم یہ کہ کیا اسلام انسان کے گناہوں سے پاک ہونےکا قائل ہے یا نہیں۔اگر ہے تو کس طرح؟ سوم یہ کہ کیا اسلام مرنے کے بعد گناہوں کی معافی کاقائل ہے یا نہیں؟ چہارم یہ کہ کیا دوزخ کا عذاب غیر محدود ہے ؟ پنجم یہ کہ کیا جنت کا انعام منقطع ہے ؟ اور ششم خاتمہ جس میں انشاء اللہ اس مضمون کے متعلق متفرق باتوں کو بیان کیا جائے گا۔وماتوفیقی الا بالله العلي العظيم۔کیا اسلام میں پچھلے گناہوں سے نجات ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس طرح؟ جیسا کہ میں پہلے لکھ آیا ہوں نجات کے مضمون کو میں نے مختلف چھ حصوں پر تقسیم کیا ہے۔اورسب سے پہلے میں مذ کورہ بالا ہیڈنگ پر کچھ لکھنا چاہتا ہوں کیونکہ جب ایک انسان خدا کی طرف جھکتا ہے تو ضرور ہے کہ اسے پہلے یہی سوال نہیں آئے کہ کیا میرے پہلے گناہ چو میں اب تک کر چکا ہوں وہ معاف ہو سکتے ہیں کہ نہیں؟ اور اس سوال کے حل کے بغیر نجات پر بحث کرنا ہے بھی فضول کیونکہ جب گناہ بھی معاف نہ ہوئے تو پھر نجات کس طرح ممکن ہے۔یاد رہے کہ اسلام ہم کو اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے غفار ہونے پر ہر حالت میں ایمان لائیں اور کسی وقت بھی اس کے بے پا یاں فضل و کرم سے ناامید نہ ہوں بلکہ ہردم یقین کریں کہ اگر خدا تعالیٰ کے انعامات ہمارے شامل حال نہ ہوں تو ہماری زندگیاں تیز ہو جائیں اور جینا ہمارے لئے دو بھر ہو جائے اور یہ کہ وہ ہماری خطاؤں کو معاف کرتا ہے اور اگر سچی توبہ کی جائے جو فضل کی جاذب ہو تو ہمارے گناہوں کو ملیا میٹ کر دیتا ہے وہ محبت سے پر محبت کے قابل ہستی ہے جس کے مد نظر انسان کی اصلاح ہے اس کی ہلاکت نہیں جس وقت انسان اصلاح کی طرف جا ہے اور اپنی غلطیوں پر آگاہ ہو کر ان کے دور کرنے کی طرف توجہ کرتا ہے تو آسمان کےدروازے بھی اس کے لئے کھل جاتے ہیں اور ملاء اعلیٰ کی توجہ بھی اس کی اصلاح کی طرف متصرف ہو جاتی ہے پس مبارک ہے وہ جو ان باتوں پر غور کرے اور فائدہ اٹھائے۔بر خلاف اس کے مسیح اور آرین یہ خیال کرتے ہیں کہ پچھلے گناہ قطعا ًمعاف نہیں ہو سکتے جو ہوچکا سو ہو چکا۔اب واپس نہیں لیا جا سکتا۔اب اگر کوئی شخص اپنی اصلاح کرنا چاہتا ہے۔تو یہی طریق