انوارالعلوم (جلد 1) — Page 241
اب میں اصل مضمون کی طرف ہوتا ہوں اور سب سے پہلے یہ بتاتا ہوں کہ اسلامی نجات کیاہے۔اور یہ کہ واقعی وہی نجات سچی اور حقیقی ہے۔اور باقی سب مذاہب کی پیش کردہ نجاتیں ناقص ہیں۔۔نجات کی تعریفہر ایک مضمون پر قلم اٹھانے سے پہلے ضروری ہو تا ہے کہ اس کی تشریح کردی جائے اور تعریف کر دی جائے تاکہ ایک تو مضمون کے حصہ کرنے میں آسانی ہو اور ایک پڑھنے والے کو اس کے سمجھنے میں مدد ملے۔اس لئے میں لفظ نجات کی تحقیقات کرنی ضروری سمجھتا ہوں۔یاد رہے کہ نجات ایک عربی زبان کا لفظ ہے کہ جس کے معنی دریافت کرنے کے لئے ہم کو عربی لغات کی طرف رجوع کرناپڑتا ہے۔اس لئے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اول لفظ نجات کے وہ معنی جولغت عربی ہم کو بتاتی ہے لکھ دوں۔تاج العروس جلد ۱۰ سال ۳۵۶ پر لکھا ہے کہ النجاة الخلاص مما فیہ المخافة و نظیر ھا الملامة ذکرہ الحرالی و قال غیرہ ھو من النجوة و ھی الارتفاع من الھلاک و قال الراغب اصل النجاة الانفصال من الشی و منہ نجا فلاناس صورت میں نجات کے تین معنی ہوئے۔ایک تو خون والی چیز سے خلاصی دوسرے یہ کہ ہلا کت کی جگہ سے اونچا کر دینا اور ٹیلہ پر جگہ دینا اور تیسرے کسی چیزسے جدا ہو جانا مگر بہر حال ہم کو ان تینوں معنوں سے اتنا معلوم ہو گیا کہ نجات کہتے ہیں کسی مکروہ چیز سے بچ جانے کو۔پس اب ہم مذاہب کو دیکھتے ہیں تو ان کا اصل مقصد خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے انسان کو بچانا اور اس سے سچا تعلق پیدا کروانا ہوتا ہے۔اس لئے مذاہب نے جو یہ لفظ لیا ہے اور استعمال کیا ہے تو انہوں نے اس کوانہیں مذکورہ بالا معنوں میں استعمال کیا ہے۔اور نجات کے لفظوں کو اپنی اصطلاح میں خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے بچنے اور اس کی رضا حاصل کرنے پر حصرکیا ہے۔اور واقعی اگر دیکھا جائے تو اصل خون تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی سے ہی ہوتا ہے۔اگر وہ راضی ہے تو پھر ہر ایک آفت سے انسان محفوظ ہے اور اگر وہ ناراض ہے تو ساری دنیا کی نعمتیں موجود ہوتے ہوئے بھی کوئی سکھ اور چین اور آرام نصیب نہیں ہو سکتا۔کسی نے سچ کہا ہے کہ خدا راضی ہو تو کل جہاں راضی ہوتا ہے اوراگر وہ ناراض ہو تو اور تو اور خود اپنے ہاتھ پاؤں تک نافرمان اور قابو سے باہر ہو جاتے ہیں۔اس وجہ سے اگر کسی چیز سے ڈر ہو سکتا ہے تو وہ غضب الہٰی ہے۔پس کل مذاہب تے غضب الہٰی سے بچنے اور